دہشت گردوں

دہشت گردوں کا ایف سی کے زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینسوں پر حملہ

ڈیرہ اسماعیل خان،یورپ ٹوڈے: خیبرپختونخوا میں پیر کے روز دہشت گردی کے پے در پے حملوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے تین اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ ادھر ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں چار دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں مسلح افراد کے حملے میں چھ افراد جاں بحق ہوگئے۔

پولیس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے حکام فتنہ الخوارج قرار دیتے ہیں، سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کرک کے علاقے بہادر خیل میں درگاہ شہیداں کے قریب ایف سی قلعے پر ڈرون حملہ کیا۔ یہ واقعہ تھانہ خرم محمد زئی کی حدود میں پیش آیا، جس کے نتیجے میں حوالدار صابر، سپاہی امین، سپاہی زوہیب، سپاہی مراد اور سپاہی یوسف زخمی ہوگئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرک سعود خان کے مطابق حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ دہشت گردوں نے راستے میں ایمبولینسوں پر دوسرا حملہ کردیا اور زخمیوں سمیت گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ اس حملے میں ایف سی کے تین اہلکار شہید جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔ زخمیوں کو بنوں کے خلیفہ گل نواز اسپتال منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گرد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں ہلاک کردیے گئے۔ بیان کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں چاروں دہشت گرد مارے گئے اور ان کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ “عزمِ استحکام” وژن کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور علاقے میں مزید دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ایف سی قلعے اور ایمبولینس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایمبولینس پر فائرنگ جیسے بزدلانہ اقدامات قومی عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ “عزمِ استحکام” کے تحت سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کررہی ہیں اور پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کو انسانیت کے خلاف افسوسناک اور بزدلانہ اقدام قرار دیا، جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایمبولینس پر حملے کو انتہائی غیر انسانی عمل کہا۔

پنجگور میں سرحدی علاقے میں حملہ، 6 افراد جاں بحق

ادھر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چدگی دشتک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم چھ افراد جاں بحق ہوگئے۔ واقعہ پنجگور شہر سے تقریباً 60 کلومیٹر دور ایران سے ملحقہ سرحدی علاقے میں پیش آیا۔

عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے ایک گروہ پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چھ افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ حملہ آوروں نے دو گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی اور فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں دو کی شناخت داؤد ولد عوض جان اور سلیم ولد حاجی فیض محمد کے نام سے ہوئی ہے، جو سرحدی گاؤں نکار کے رہائشی تھے، جبکہ دیگر چار افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ لاشوں کو ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال پنجگور منتقل کردیا گیا، جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہلاکتیں زیادہ تر گولی لگنے سے ہوئیں۔

اسسٹنٹ کمشنر پنجگور امیر جان کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے واقعے کو ممکنہ دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حتمی نتیجہ مکمل تحقیقات کے بعد سامنے آئے گا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

مقامی افراد کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور متعدد افراد نے گھروں میں پناہ لے لی۔ پنجگور میں حالیہ عرصے کے دوران بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آچکے ہیں، جنہیں اکثر بلوچ علیحدگی پسند گروہوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، جس کا ثبوت افراد کو نشانہ بنانا اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنا ہے۔

شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا 23 تا 24 فروری قطر کا سرکاری دورہ، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوگی
محسن نقوی Next post وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اٹلی پہنچ گئے، یورپی وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں متوقع