
وزیراعظم شہباز شریف کا کفایت شعاری اور توانائی بچت پلان کا اعلان، سرکاری اخراجات میں بڑی کمی
اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پیر کے روز سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کے لیے توانائی بچت اور کفایت شعاری پر مبنی ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد بڑھتی ہوئی عالمی تیل قیمتوں کے اثرات سے عوام کو بچانا ہے۔
وزیراعظم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اجلاس میں منصوبہ کو حتمی شکل دینے کے بعد قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب میں ان اقدامات کا اعلان کیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو فراہم کیے جانے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، جبکہ 60 فیصد سرکاری گاڑیاں مکمل طور پر بند رکھی جائیں گی۔ تاہم ایمبولینس اور عوامی بسیں اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دو ماہ تک وفاقی وزراء، مشیروں اور معاونینِ خصوصی تنخواہیں وصول نہیں کریں گے اور یہ رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی، جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران، جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ عوامی ریلیف فنڈ کے لیے کاٹی جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں کے اخراجات، تنخواہوں کے علاوہ، 20 فیصد تک کم کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری اداروں میں فرنیچر، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر سامان کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی وزراء، مشیروں، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں پر بھی پابندی ہوگی، سوائے ان دوروں کے جو قومی مفاد کے لیے ناگزیر ہوں۔ یہ پابندی وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور گورنرز پر بھی لاگو ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایندھن کی بچت کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن اجلاسوں کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسی طرح سیمینار اور کانفرنسز ہوٹلوں کے بجائے سرکاری عمارتوں میں منعقد کیے جائیں گے۔
توانائی کے تحفظ کے لیے سرکاری اور نجی شعبے میں ضروری خدمات کے علاوہ 50 فیصد ملازمین گھر سے کام کریں گے اور دفاتر ہفتے میں چار دن کھلے رہیں گے۔ ایندھن کی بچت کے لیے ہفتے میں ایک اضافی تعطیل دی جائے گی، تاہم یہ فیصلہ بینکوں، صنعت اور زراعت کے شعبوں پر لاگو نہیں ہوگا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ تمام اسکولوں کو دو ہفتے کی تعطیلات دی جا رہی ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فوری طور پر آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو ایک سنگین اور خطرناک صورتحال کا سامنا ہے اور ایران و مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت چند دنوں میں 60 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مغربی سرحدوں پر پاک افواج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہی ہیں۔
وزیراعظم نے ایران پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور دیگر بے گناہ افراد کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، اردن، لبنان، عمان، ترکی اور آذربائیجان سمیت برادر ممالک پر حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان ان ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط متعارف کرایا گیا ہے تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، پالیسی ریٹ تقریباً نصف ہو چکا ہے، روپے کی قدر مستحکم ہے اور بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ مشکل حالات میں صاحبِ حیثیت افراد آگے بڑھ کر کمزور طبقات کی مدد کریں، جبکہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی یا منافع خوری کی تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کو پہلے سے کہیں زیادہ اتحاد، یکجہتی اور ذمہ داری کے احساس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہِ رمضان ہمیں صبر، ایثار اور اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا ہے اور قوم کو مشکل حالات میں ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت قومی معیشت اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں توانائی بچت اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک جامع جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی و صوبائی قیادت اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ملک بھر میں توانائی کے تحفظ اور کفایت شعاری کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔