
صدر آصف علی زرداری کا عالمی برادری سے اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا مطالبہ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے دنیا بھر کی حکومتوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور مذہبی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اسلاموفوبیا کے خلاف تعصب کو مسترد کرتے ہوئے مکالمے اور قانونی ذرائع کے ذریعے مشترکہ کوششیں کریں۔
بین الاقوامی دن برائے انسداد اسلاموفوبیا کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے بعد آج ہم دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیازی سلوک اور عدم برداشت کے خلاف یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن مسلم کمیونٹیز کو درپیش بڑھتے ہوئے تعصب اور تشدد کی جانب عالمی توجہ مبذول کراتا ہے اور مذہبی تنوع کے احترام اور برداشت کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مذہبی عقائد کا احترام اور قانون کے تحت مساوی تحفظ اختیاری اصول نہیں بلکہ لازمی ذمہ داریاں ہیں۔ پاکستان ان اصولوں کی حمایت میں اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر واضح مؤقف اختیار کرتا رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ دن نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں پیش آنے والے المناک واقعے کی یاد بھی تازہ کرتا ہے جس نے پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اسلاموفوبیا مختلف شکلوں میں سامنے آتا ہے جن میں نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، اور مذہبی علامات اور عبادت گاہوں پر حملے شامل ہیں۔ ایسے اقدامات بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور اس اصول کے منافی ہیں کہ تمام انسان قانون کے سامنے برابر ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ اسلام امن، رحم دلی اور انصاف کا درس دیتا ہے اور انسانیت کے احترام کی تلقین کرتا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، نسل یا پس منظر سے ہو۔ اسلام کو انتہاپسندی یا تشدد سے جوڑنے کی کوششیں لاعلمی کی عکاس ہیں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کی کوششوں کو کمزور کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے مطابق تمام انسان آزاد اور وقار و حقوق میں برابر پیدا ہوتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 2 واضح کرتا ہے کہ ہر شخص بلا امتیاز ان حقوق کا حقدار ہے، جن میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز بھی شامل نہیں۔ یہ اصول ایک منصفانہ عالمی نظام کی بنیاد ہیں۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان متعدد انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں کی توثیق کر چکا ہے اور اسلاموفوبیا کے خلاف بین الاقوامی اجلاسوں اور کانفرنسوں میں آواز اٹھاتا رہا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے اور اسے نفرت یا تقسیم کو ہوا دینے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ نفرت انگیز جرائم کے خلاف قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جائے اور مذہبی رہنماؤں، ماہرین تعلیم اور میڈیا اداروں کے درمیان عملی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
صدر مملکت نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں جو کاروبار چلاتے ہیں، ہسپتالوں میں خدمات انجام دیتے ہیں، جامعات میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اپنی کمیونٹیز میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اضافہ ان کی سلامتی اور تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کرتا ہے، جبکہ کسی بھی شخص کو اس کے مذہب کی بنیاد پر نہ پرکھا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے نظر انداز کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلم شہریوں کو سرکاری خدمات، تعلیم اور روزگار تک بلا رکاوٹ رسائی حاصل ہے اور ان کی آواز کو مقامی کونسلوں اور قومی مباحثوں میں سنا جانا چاہیے۔ وفاقی کابینہ بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی اور مذہبی رواداری کی حکمت عملی کی منظوری دے چکی ہے جبکہ پارلیمنٹ نے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس ایکٹ 2025 منظور کیا ہے۔
صدر زرداری کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک آزاد نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز بھی قائم کیا جا رہا ہے۔