
انڈونیشیا میں قومی پارکس کے تحفظ کے لیے جدید مالیاتی حکمت عملی، خصوصی ٹاسک فورس قائم
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے قومی پارکس کے مؤثر انتظام، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور مقامی کمیونٹیز کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے لیے جدید مالیاتی ذرائع کی ترقی کے مقصد سے ایک ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔
بدھ کے روز حکام کے مطابق صدر کے خصوصی ایلچی برائے موسمیاتی تبدیلی و توانائی اور ٹاسک فورس کے سربراہ حشیم جوجوہادیکوسومو نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے لیے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی خاطر وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا ناگزیر ہے، تاہم اس اقدام کا مقصد کمرشلائزیشن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ہم واضح کرتے ہیں کہ تحفظِ ماحول کے لیے یہ مالیاتی جدت کمرشلائزیشن کے لیے نہیں، بلکہ ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دینے کے لیے ہے۔ سیاحت، ماحولیات کی معاونت کرے گی، نہ کہ اس پر غالب آئے گی۔”
اس موقع پر وزیرِ جنگلات راجا جولی انتونی نے بتایا کہ حکومت ابتدائی مرحلے میں 13 قومی پارکس میں پائلٹ منصوبے شروع کرے گی، جن میں پیوسانگان لینڈ اسکیپ اور بوکیت 30 لینڈ اسکیپ جیسے اہم تحفظاتی علاقے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس دوہری حکمت عملی اپنائے گی جس میں ایک جانب ریگولیٹری اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی اور پالیسی سازی شامل ہوگی، جبکہ دوسری جانب شراکت داریوں اور کمیونٹی پر مبنی نظم و نسق کے ذریعے فنڈنگ کے ذرائع کو فروغ دیا جائے گا۔
راجا جولی انتونی کے مطابق حکومت کاربن ٹریڈنگ سمیت مختلف مالیاتی میکانزمز کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ فلاحی اداروں، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور دیگر ذرائع پر مشتمل “بلینڈڈ فنانس” ماڈل کو بھی بروئے کار لایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالیاتی اقدامات کے ساتھ ساتھ فیلڈ عملے کی صلاحیتوں میں اضافے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، جس میں جنگلات کے محافظین، ایکو سسٹم کنٹرولرز اور جنگلاتی توسیعی کارکنان شامل ہیں۔
حکام کے مطابق تحفظاتی علاقوں کے مؤثر انتظام کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کو بھی وسعت دی جائے گی تاکہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
دریں اثنا، ادیتیا بایونندا نے کہا کہ یہ اقدام بڑے پیمانے پر فلاحی اور کثیرالجہتی فنڈنگ کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جو انڈونیشیا کی نمایاں حیاتیاتی انواع کے مسکن کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کے ذریعے حکومت کو متبادل مالی وسائل کے حصول میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔