انڈونیشیا

انڈونیشیا میں دیہی ترقی کے فروغ کے لیے شراکت داری، 5 ہزار برآمدی دیہات کے قیام کا ہدف

Read Time:2 Minute, 6 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارتِ دیہات و پسماندہ علاقوں کی ترقی نے دیہی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بارِسان 8 سینٹر کے ساتھ شراکت داری قائم کر لی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں 5 ہزار برآمدی صلاحیت کے حامل دیہات کے قیام کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیرِ دیہات یاندری سوسانتو نے اس تعاون کو حکومتی عملی اقدامات کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیہی آبادی کو ترقیاتی پروگراموں میں محض مستفید ہونے والوں کے بجائے فعال کردار ادا کرنے والا فریق بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے جکارتہ میں منگل کے روز مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد کہا کہ دیہات کی ترقی کے لیے حکومت اکیلے کام نہیں کر سکتی بلکہ تمام طبقات کی فعال شمولیت ضروری ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ادارے اور تنظیمیں دیہات کی رہنمائی کریں تاکہ وہ اپنے وسائل اور صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ اس ضمن میں وزارت دیہات دیہی علاقوں کو منافع بخش برآمدی مراکز میں تبدیل کرنے میں معاونت فراہم کرے گی، جو حکومت کی 12 ترجیحی اقدامات میں شامل ہے۔

وزیر نے مزید کہا کہ انڈونیشیا کی کافی، ونیلا، کینڈل نٹ اور پام شوگر جیسی مصنوعات عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، لہٰذا دیہی علاقوں کو برآمدی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت دیہی آبادی کو خود کفیل بنانے کے لیے اقدامات کو تیز کرے گی اور ساتھ ہی صاف پانی، بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات تک رسائی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق بااختیار بنانا اور رہنمائی ایک ساتھ چلنا چاہیے تاکہ دیہات کو معاشی ترقی کے مراکز کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔

دوسری جانب، بارِسان 8 سینٹر کے چیئرمین اندریو سیزاریو نے حکومت کے ساتھ اشتراک کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم دیہی مصنوعات کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے میں معاونت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر مغربی جاوا میں عربیکا کافی پر مبنی پائلٹ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دیہات کی صلاحیتوں کی نشاندہی کے لیے ڈیجیٹل جیو ٹیگنگ ایپلی کیشن کے ذریعے ٹیکنالوجی کی مدد بھی فراہم کی جائے گی، جس سے بیرونِ ملک خریدار دیہی وسائل کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکیں گے اور لین دین مزید شفاف اور مؤثر ہو سکے گا۔

اندریو سیزاریو نے اس شراکت داری کو صدر پرابوو سبیانتو کے نچلی سطح سے مساوی ترقی اور خوشحالی کے وژن کے مطابق قرار دیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
یورپی یونین Previous post یورپی یونین کے وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر زور
ویتنام Next post نیویارک میں این پی ٹی جائزہ کانفرنس: ویتنام کا جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تینوں ستونوں پر متوازن عملدرآمد کا مطالبہ