چاول

انڈونیشیا میں چاول کے وافر ذخائر، صدر پربوو کا گوداموں کا اچانک دورہ

Read Time:2 Minute, 5 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: پربوو سبیانتو نے نائب وزیرِ زراعت سوداریونو کے ہمراہ ہفتہ کے روز وسطی جاوا کے شہر میگیلینگ میں سرکاری لاجسٹک ادارے بولوگ کے گوداموں کا اچانک دورہ کیا، جہاں چاول کے ذخائر کا جائزہ لیا گیا۔

سوداریونو کے مطابق صدر پربوو تحریری رپورٹس پر انحصار کرنے کے بجائے زمینی حقائق کا براہِ راست مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس اچانک دورے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ خوراک کے ذخائر عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر دستیاب اور تیار ہیں، خصوصاً عالمی جغرافیائی کشیدگی کے باعث ممکنہ بحران کے خدشات کے پیش نظر۔

نائب وزیر نے بتایا کہ تقریباً 7,000 ٹن چاول ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھنے والا یہ گودام مکمل طور پر بھرا ہوا ہے، جو عوام کے لیے وافر ذخائر کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کی صورتحال ملک کے دیگر علاقوں، بشمول جنوبی سولاویسی کے شہر مکاسر اور بون میں قائم بولوگ کے گوداموں میں بھی دیکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انڈونیشیا میں چاول کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 2025 میں پیداوار میں 13.29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو زرعی رقبے میں توسیع اور حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

سوداریونو کے مطابق اپریل 2026 تک حکومت کے چاول کے ذخائر (سی بی پی) تقریباً 4.8 ملین ٹن کی سطح پر پہنچ گئے ہیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملک بھر میں رسد اور قیمتوں کا استحکام برقرار رہے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مجموعی طور پر چاول کی دستیابی تقریباً 28 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے، جس میں حکومتی ذخائر، مارکیٹ میں موجود 12 ملین ٹن اور آئندہ فصلوں سے حاصل ہونے والے مزید 12 ملین ٹن شامل ہیں۔

نائب وزیر کے مطابق یہ مقدار تقریباً 11 ماہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خوراک کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں 2026 کے دوران بولوگ کو کم از کم 4 ملین ٹن مقامی چاول خریدنے کی ہدایت بھی شامل ہے، جو گزشتہ سال کے 3 ملین ٹن سے زیادہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے 2025 میں بولوگ کی معاونت کے لیے 16.5 ٹریلین روپیہ (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر) مختص کیے، جبکہ قیمتوں کی پالیسیوں کو کسانوں اور صارفین دونوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
کاکول Previous post پی ایم اے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ، نمایاں کیڈٹس میں اعزازات تقسیم
مریم نواز Next post کوٹلی ستیاں میں سیاحتی و ترقیاتی منصوبوں کی منظوری، نواز شریف و مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے