
بجلی کے شعبے میں اصلاحات تیز، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کرنے کی ہدایت
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیرِاعظم شہباز شریف نے منگل کے روز بجلی کے شعبے میں اصلاحاتی اقدامات کے جائزے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قابلِ تجدید ذرائع پر مبنی جامع حکمتِ عملی تیار کی جائے۔
وزیراعظم آفس میں منعقدہ اجلاس کے دوران وزیرِاعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پن بجلی، شمسی توانائی، بایوگیس اور دیگر قابلِ تجدید وسائل سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ لاگت میں کمی اور معاشی ترقی پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ انہوں نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیرِاعظم نے بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہ برتنے کا حکم دیا اور حالیہ دنوں میں اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کرنے والی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی۔
انہوں نے بجلی چوری کے زیادہ شکار علاقوں میں ٹرانسفارمرز پر اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے عمل کو تیز کرنے اور ملک میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کے فروغ کے لیے اقدامات جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی۔
وزیراعظم نے وہیلنگ نظام کے تحت پہلے مرحلے میں نجی شعبے کو 400 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مؤثر اقدامات کے باعث بجلی چوری، عدم ادائیگی اور تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات جون 2024 میں 18.3 فیصد سے کم ہو کر مارچ 2026 میں 15.3 فیصد رہ گئے، جبکہ بجلی بلوں کی وصولی جون 2024 کے 90 فیصد سے بڑھ کر مارچ 2026 میں 96.46 فیصد ہو گئی۔
مزید بتایا گیا کہ تین تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت کے لیے کام جاری ہے اور بولی کا عمل رواں سال نومبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جبکہ ملک بھر میں 2,500 نقصاندہ فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز پہلے ہی نصب کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔