شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے 2027 تا 2030 قومی حج پالیسی کی منظوری دے دی

Read Time:3 Minute, 6 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چار سالہ حج پالیسی و پلان (2027-2030) کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد حج انتظامات میں طویل المدتی منصوبہ بندی، شفافیت، آپریشنل استعداد اور عازمینِ حج کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

منگل کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نئی حج پالیسی کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف اور ان کی ٹیم کو رواں سال حج انتظامات کی کامیاب انجام دہی پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سابقہ سالانہ حج پالیسیوں کے برعکس نئی چار سالہ پالیسی 2030 تک کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرے گی، جس کے تحت معیاری عملی طریقہ کار (SOPs) اور دیگر قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں گے، جبکہ سعودی عرب کے قوانین اور ضوابط سے ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ضرورت کے مطابق ترامیم بھی کی جا سکیں گی۔

منظور شدہ پالیسی کے مطابق عازمینِ حج کو 2030 تک کسی بھی حج سیزن کے لیے صرف ایک مرتبہ رجسٹریشن کرانا ہوگی، جس کی بنیاد پر ترجیحی ویٹنگ لسٹ تیار کی جائے گی۔ اس کے علاوہ شہریوں کو مالی منصوبہ بندی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے شریعت کے مطابق حج سیونگ اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ادائیگیوں، شکایات کے ازالے اور نگرانی سمیت پورے حج انتظامی نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

پالیسی کے تحت سرکاری اور نجی حج اسکیموں کے لیے الگ الگ کوٹہ برقرار رکھا جائے گا، جبکہ طویل اور مختصر دورانیے کے حج پیکیجز، عازمین کی لازمی تربیت، تکافل انشورنس اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے خصوصی انتظامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے دوران ہدایت کی کہ حج معاونین کی تقرری مکمل شفافیت اور سخت میرٹ کی بنیاد پر کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ سرکاری اور نجی دونوں حج اسکیموں کے تحت فراہم کی جانے والی خدمات کا آزاد تھرڈ پارٹی آڈٹ اور توثیق بھی لازمی کرائی جائے تاکہ عازمین کو اعلیٰ معیار کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے آئیسولیشن ہسپتال اینڈ انفیکشس ٹریٹمنٹ سینٹر (IHITC) اور ریجنل بلڈ سینٹر (RBC) کی خدمات کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے آؤٹ سورس کرنے کی پالیسی کی بھی منظوری دی اور وزارتِ قومی صحت کو مقررہ قواعد کے مطابق اس عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیر ریلوے حنیف عباسی کی جانب سے پاکستان ریلوے کی کارکردگی پر بریفنگ بھی دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ریلوے کی آمدن مالی سال 2024-25 کے 95 ارب روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں 115 ارب روپے سے تجاوز کر گئی، جو 24.19 فیصد اضافہ ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مال برداری سے حاصل ہونے والی آمدن میں 8 ارب روپے سے زائد، دیگر ذرائع آمدن میں 7 ارب روپے سے زیادہ، جبکہ جائیداد اور اراضی سے حاصل ہونے والی آمدن میں 6 ارب روپے سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مسافروں سے حاصل ہونے والی آمدن میں بھی 3.37 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ریلوے آپریشنز اور مال برداری کے نظام میں بہتری قرار دی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ان کی ٹیم کی مالی اور انتظامی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات کی تعریف کی۔

اجلاس کے اختتام پر وفاقی کابینہ نے 19 مئی 2026 کو ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) اور 2 جولائی 2026 کو منعقد ہونے والی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان اور زمبابوے کا دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ