پاکستان

معرکۂ حق نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور قومی اتحاد کو دنیا پر واضح کر دیا: صدر مملکت

Read Time:3 Minute, 21 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جو نہ صرف اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کی ضامن بھی ہے۔

یومِ معرکۂ حق کی پہلی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ حالیہ مغربی ایشیا کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے ذمہ دارانہ اور متوازن سفارتکاری کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ برس اپریل اور مئی کے واقعات پاکستان کے لیے ایک بڑا امتحان تھے، تاہم قوم نے ثابت قدمی دکھائی۔ ان کے مطابق بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بہانے بلاجواز جارحیت کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کیے جن میں شہری اور عسکری مقامات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم پاکستان نے نظم و ضبط، جرات، اتحاد اور درست حکمت عملی کے ساتھ جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص معرکۂ حق کا مرکزی اور فیصلہ کن پہلو تھا جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اس وقت کیا صلاحیت رکھتی ہیں جب پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہو۔ پاکستان کا ردعمل محتاط، نپا تُلا، درست اور متناسب تھا جبکہ پیغام واضح اور دوٹوک تھا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ معرکۂ حق نے ثابت کیا کہ پاکستان کی دفاعی قوت صرف نعرہ نہیں بلکہ پیشہ ورانہ مہارت، تینوں مسلح افواج کی مشترکہ حکمت عملی اور عوام کے عزم پر مبنی حقیقت ہے جو جارحیت کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔

انہوں نے مسلح افواج کے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہید نے اس قوم کو سربلند رکھنے کے لیے اپنی جان قربان کی۔ ان کے مطابق جب پاکستان پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو ہر شہری، خواہ وہ وردی میں ہو یا بغیر وردی کے، سپاہی بن جاتا ہے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے مزید خونریزی کو روکنے اور خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان جہاں بھی ممکن ہو، امن، مکالمے اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے مسئلۂ کشمیر کو خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی خواہشات، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج ہیں، دہائیوں کے قبضے کے باوجود ختم نہیں ہوئیں اور نہ ہوں گی۔ پاکستان اس کے منصفانہ اور قانونی حل کے مؤقف پر قائم ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی دراصل پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والا یہ معاہدہ کئی جنگوں اور دہائیوں کی کشیدگی کے باوجود قائم رہا، لیکن بھارت کا یکطرفہ اقدام لاکھوں افراد کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستان اپنے آبی حقوق کے دفاع کے لیے اسی عزم کے ساتھ کھڑا رہے گا جیسے وہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے معاملے پر اپنا مؤقف بالکل واضح رکھتا ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور وہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے اور افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کسی تنازع کا خواہاں نہیں، تاہم وہ دباؤ یا جبر کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔ پاکستان اپنی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور ایسے خطے کا حامی ہے جہاں اختلافات طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق اب قومی شعور کا حصہ بن چکا ہے اور یہ ہر سال اس حقیقت کی یاد دہانی رہے گا کہ جو قوم اپنی قدر جانتی ہے وہ اپنے دفاع کی طاقت بھی رکھتی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ڈھاکہ Previous post پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان انسدادِ منشیات تعاون کے لیے اہم معاہدہ، مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق
آذربائیجان Next post عوضہ میں اکتوبر 2026 کے دوران وسطی ایشیائی سربراہ اجلاس، سی آئی ایس کانفرنسز اور بین الاقوامی تقاریب کا اعلان