باکو

باکو: WUF13 سے قبل “ایکو آرٹ” فیسٹیول کا انعقاد، فن اور ماحولیاتی شعور کا امتزاج

Read Time:2 Minute, 36 Second

باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان نیشنل کارپٹ میوزیم میں 11 مئی کو “ایکو آرٹ” فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جو ورلڈ اربن فورم 13 (WUF13) سے قبل آذربائیجان اسٹیٹ یونیورسٹی آف کلچر اینڈ آرٹس (ASUCA) کی جانب سے منعقدہ باکو اربن کیمپین کا حصہ تھا۔

اس تقریب میں صدراتی انتظامیہ کے شعبہ انسانی پالیسی، ڈائسپورا، کثیر الثقافتی امور اور مذہبی معاملات کی سربراہ فراح علییوا، آذربائیجان نیشنل کارپٹ میوزیم کی ڈائریکٹر امینہ ملیکووا، اسٹیٹ کمیٹی برائے اربن پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر کی ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور WUF13 کی ڈپٹی نیشنل کوآرڈینیٹر گلشن رضائیوا، نائب وزیرِ ثقافت سعادت یوسفوا، اقوام متحدہ ہیبیٹاٹ آذربائیجان کی کنٹری پروگرام ہیڈ آنا سوآوے سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا۔

ڈائریکٹر امینہ ملیکووا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہری ترقی صرف عمارتوں اور انفراسٹرکچر تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں ماحولیاتی آگاہی، ثقافتی ورثہ اور تخلیقی طرزِ زندگی بھی شامل ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ایکو آرٹ” فیسٹیول فن اور ماحولیاتی شعور کو کامیابی سے یکجا کرتا ہے اور WUF13 سے قبل ایک اہم ثقافتی اقدام ہے۔

ASUCA کی ریکٹر پروفیسر جیئرن محمودوا نے کہا کہ یونیورسٹی کئی ماہ سے WUF13 کی تیاریوں کے سلسلے میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے، اور “ایکو آرٹ” فیسٹیول ایک کامیاب اقدام ہے جو ماحولیاتی سوچ، ثقافتی ورثے اور جدید آرٹ کو یکجا کرتا ہے۔

نائب وزیرِ ثقافت سعادت یوسفوا نے کہا کہ یہ فیسٹیول آذربائیجان کے شہری منصوبہ بندی کے ورثے کے تحفظ اور جدید رجحانات کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق نمائش شدہ فن پارے نوجوانوں کے ماحولیاتی مسائل پر نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں اور فن کے ذریعے تعلیم و سماجی ذمہ داری کو اجاگر کرتے ہیں۔

گلشن رضائیوا نے کہا کہ “ایکو آرٹ” کا عنوان سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے، جس میں “ایکو” ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں پائیدار شہری ترقی کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ “آرٹ” آذربائیجان کے بھرپور ثقافتی و فنی ورثے کی علامت ہے۔

آنا سوآوے نے WUF13 کی تیاریوں اور باکو اربن کیمپین کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ سرگرمیاں پائیدار شہری ترقی، ماحولیاتی ذمہ داری اور عوامی شمولیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں اور تخلیقی برادریوں کے کردار کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔

فیسٹیول کے ثقافتی پروگرام میں معروف فنکارہ گلیانگ محمدوا اور ان کے طلبہ کی پرفارمنس، جبکہ ASUCA کے SABAH گروپ کی جانب سے “گوبستان کی آوازیں” پیش کی گئیں۔

تقریب میں ماحولیات کے موضوع پر مبنی اسٹیج پرفارمنس بھی پیش کی گئی جس میں ری سائیکل شدہ مواد کے ذریعے فنکارانہ اظہار کیا گیا۔

مزید برآں نمائشوں میں “گرین ورلڈ – ہر قدم ایک امید”، ری سائیکل آرٹ “نیچر اینڈ ویسٹ”، اور باٹک آرٹ “جدید رنگوں کا امتزاج – پتھر سے ریشم تک” شامل تھیں، جنہوں نے ماحولیات، شہری زندگی اور ثقافتی ورثے کے موضوعات کو اجاگر کیا۔

“ایکو آرٹ” فیسٹیول نے فن اور ماحولیاتی شعور کو یکجا کرتے ہوئے نوجوان تخلیق کاروں کے پائیدار مستقبل کے وژن کو پیش کیا اور باکو میں WUF13 سے قبل ایک اہم ثقافتی اقدام کے طور پر نمایاں حیثیت حاصل کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکمانستان Previous post باکو میں ترکمانستان کے پہلے خشک مال بردار جہاز “گاداملی” کا شاندار خیرمقدم، ٹرانسپورٹ تعاون کے فروغ کی علامت
زرداری Next post صدر آصف زرداری کا آئندہ بجٹ میں عوامی فلاح، معاشی استحکام اور کمزور طبقات کو ریلیف پر زور