توانائی

ویتنام میں چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز توانائی کے مستقبل کا اہم حل قرار، اربوں ڈالر سرمایہ کاری متوقع

Read Time:3 Minute, 58 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آرز) توانائی کے تحفظ اور صنعتی ترقی کے لیے ایک مؤثر حل کے طور پر ابھر رہے ہیں، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں اربوں ڈالر مالیت کے منصوبے اس ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ بات پیر کے روز ہنوئی میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران سامنے آئی۔

کانفرنس میں شریک حکام، سفارت کاروں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں نے کہا کہ ایس ایم آرز ویتنام کو 2050 تک نیٹ زیرو اخراج کے ہدف کے حصول کے لیے اپنی توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تقریب کے منتظمین میں شامل وی این اکنامی کے جنرل ڈائریکر ڈاؤ کوانگ بنہ نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ عالمی توانائی کی صنعت ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے تناظر میں نیٹ زیرو اہداف اب سرمایہ کاری کے نئے رجحانات کی بنیاد بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویتنام میں توانائی کا تحفظ ایک اہم قومی ترجیح ہے، جس کے باعث صاف، مستحکم اور خود کفیل توانائی کے ذرائع کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق ایس ایم آر ماڈلز پر تحقیق، نظرثانی شدہ پاور ڈیولپمنٹ پلان VIII کے تحت نئے توانائی منظرناموں کی تیاری سے منسلک ہے، جو طویل المدتی اور پائیدار قومی توانائی حکمت عملی کی تشکیل کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرے گی۔

ویتنام میں روسی ادارے روساٹوم کے نمائندے دیمتری الیگزینڈرووچ راسپوپن نے کہا کہ ایس ایم آرز جدید توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متعدد فوائد رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بجلی کی پیداوار، شہری علاقوں میں حرارت و ٹھنڈک کی فراہمی، ڈیٹا سینٹرز کو توانائی دینے اور روایتی پاور پلانٹس کے متبادل کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایم آرز کا کمپیکٹ ڈیزائن اور محدود ہنگامی منصوبہ بندی کے زون انہیں شہری انفراسٹرکچر میں آسانی سے ضم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ یہ چھوٹے گرڈز اور دشوار گزار علاقوں کے لیے بھی موزوں ہیں۔ ان کے مطابق یہ ری ایکٹرز کم زمین استعمال کرتے ہیں، تقریباً صفر اخراج رکھتے ہیں اور موسم سے آزاد مسلسل توانائی فراہم کرتے ہیں۔

راسپوپن نے مزید بتایا کہ روساٹوم اس وقت دنیا بھر میں بیرونِ ملک قائم ہونے والے 25 بڑے جوہری توانائی منصوبوں میں سے 22 میں شریک ہے۔

اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لورینٹس انرجی پارٹنرز کی ڈائریکٹر برائے نیو نیوکلیئر سوزی ہو نے کہا کہ عالمی جوہری شعبہ اب عملی منصوبہ بندی کے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ممالک صرف وعدوں تک محدود نہیں بلکہ منصوبوں کی تعمیر شروع کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2024 جوہری صنعت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا، خصوصاً COP28 میں 20 سے زائد ممالک کی جانب سے 2050 تک عالمی جوہری صلاحیت کو تین گنا بڑھانے کے عزم کے بعد۔ تاہم اب اصل سوال یہ ہے کہ ان اہداف کو عملی طور پر کیسے حاصل کیا جائے گا۔

سوزی ہو کے مطابق جوہری توانائی کے فروغ کے لیے لائسنسنگ کے عمل کو تیز، سپلائی چین کو مضبوط اور افرادی قوت کی تربیت کو بہتر بنانا ضروری ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ برس منصوبہ بندی سے عملی نفاذ کی جانب منتقلی کے لیے نہایت اہم ہوں گے، جس کی بڑی وجوہات کاربن کے اخراج میں کمی، توانائی کا تحفظ اور مصنوعی ذہانت سے بڑھتی ہوئی توانائی طلب ہیں۔

لورینٹس انرجی پارٹنرز نے پیش گوئی کی کہ 2030 تک دنیا بھر میں 20 سے 30 ایس ایم آر منصوبے تعمیر یا جدید لائسنسنگ مراحل میں ہوں گے، جن کی مجموعی مالیت 100 سے 150 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ اس صنعت کو ہنر مند افرادی قوت کی کمی، محدود سپلائی چین، سخت معیار پر پورا اترنے والے سپلائرز کی قلت اور بلند ابتدائی لاگت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

سوزی ہو نے کہا کہ ویتنام کو جوہری توانائی کی ترقی کا تمام مالی بوجھ اکیلے اٹھانے کی ضرورت نہیں، بلکہ مناسب مالیاتی ڈھانچے کے ذریعے ریاست، بجلی صارفین اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے مفادات کو ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویتنام کے پاس اس شعبے میں آگے بڑھنے کی صلاحیت اور عزم موجود ہے، اور اب توجہ صرف امکانات کے جائزے کے بجائے ایسے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر مرکوز ہونی چاہیے جو ملک کو صاف توانائی کے صنعتی مرکز کے طور پر ابھار سکے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ویتنام کی وزارتِ صنعت و تجارت نے نجی شعبے کو ایس ایم آرز پر تحقیق اور سرمایہ کاری کی اجازت دینے کی تجویز بھی پیش کی تھی، جس کا مقصد 2026 تا 2030 قومی توانائی ترقی کے اہداف کے حصول میں نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیرِ اعظم شہباز شریف کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کا اعلان
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا: عالمی توانائی بحران کے پیش نظر ایندھن کی بچت کی اپیل