
مراکش اور بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش کی وزارتِ انصاف اور بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی (IOMed) کے درمیان جمعرات کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد مملکت میں جاری عدالتی اصلاحات کے تحت ثالثی اور متبادل تنازعاتی حل (Alternative Dispute Resolution) کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے پر رباط میں وزارتِ انصاف کے ہیڈکوارٹرز میں مراکش کے وزیرِ انصاف عبد اللطیف وہبی اور بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کی صدر ہوا چون ینگ نے ان کے سرکاری دورۂ رباط کے دوران دستخط کیے۔
وزارتِ انصاف کے مطابق یہ دورہ ثالثی اور تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کے فروغ سے متعلق بین الاقوامی اقدامات میں مراکش کی مسلسل شمولیت اور ایک جدید و مؤثر عدالتی نظام میں ان کی اہمیت کے اعتراف کا مظہر ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت ثالثی اور تنازعاتی حل کے شعبے میں تجربات، علمی مہارت اور بہترین عالمی طریقہ کار کے تبادلے کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مشترکہ تربیتی اور استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں کے انعقاد سمیت بین الاقوامی معیار کے مطابق مختلف مشترکہ منصوبوں پر بھی عمل درآمد کیا جائے گا۔
وزارتِ انصاف نے اس موقع پر کہا کہ دنیا بھر میں ثالثی اور متبادل تنازعاتی حل کے طریقوں کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ یہ روایتی عدالتی کارروائیوں کے مؤثر تکمیلی ذرائع کے طور پر تیز، لچکدار اور کم لاگت حل فراہم کرتے ہیں۔ ایسے طریقہ کار قانونی یقین دہانی کو فروغ دینے کے ساتھ کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول پر اعتماد کو بھی مستحکم بناتے ہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ یہ دورہ مراکش کے عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جاری کوششوں اور قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات کے میدان میں ملک کے بڑھتے ہوئے علاقائی و بین الاقوامی کردار کا اعتراف ہے۔
اس موقع پر وزیرِ انصاف عبد اللطیف وہبی نے کہا کہ یہ دورہ مراکش کے عدالتی نظام کی جدید کاری میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بقول مفاہمتی یادداشت بین الاقوامی تعاون کے فروغ اور ثالثی کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو عدالتی کارکردگی بہتر بنانے اور ملک کو سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کی صدر ہوا چون ینگ نے کہا کہ یہ شراکت داری مہارتوں کے تبادلے، ثالثی کے بہترین طریقہ کار کے فروغ اور عالمی سطح پر تنازعات کے دوستانہ حل کی ثقافت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔
یہ معاہدہ متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو مستحکم بنانے اور مراکش کی عدالتی اصلاحات کو بدلتے ہوئے بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔