
ویتنام اور آسٹریلیا کا دوطرفہ تعاون مزید وسعت دینے پر اتفاق
کینبرا، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیر خارجہ لے ہوئی ٹرونگ اور آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کینبرا میں ویتنام۔آسٹریلیا وزرائے خارجہ کے آٹھویں اجلاس (FMM-8) کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کے علاوہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر جامع تبادلہ خیال کیا۔
دونوں جانب سے ایف ایم ایم۔8 کے انعقاد کو ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر تو لام کے آسٹریلیا کے سرکاری دورے کے ساتھ منسلک کرنے کا خیرمقدم کیا گیا۔ دورے کے دوران تین مشترکہ بیانات کی منظوری سمیت اہم نتائج حاصل ہوئے، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تزویراتی اعتماد، مشترکہ مفادات اور یکساں وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے 2024-2027 کے لیے ویتنام۔آسٹریلیا جامع تزویراتی شراکت داری کے ایکشن پلان پر عملدرآمد میں نمایاں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ تعاون کے تمام چھ ستونوں میں مثبت پیش رفت جاری ہے۔
انہوں نے دفاعی اور سلامتی کے تعاون میں گہرائی اور اقتصادی تعلقات میں نمایاں توسیع کو اجاگر کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دوگنی ہو کر 2025 میں 14 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ تعلیم و تربیت، ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور عوامی روابط کے شعبوں میں بھی تعاون میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
ویتنامی وزیر خارجہ لے ہوئی ٹرونگ نے اعلیٰ سطح پر کیے گئے وعدوں کو جلد از جلد عملی اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کی وزارتیں خارجہ عملدرآمد کی نگرانی، ترجیحات کے تعین، پیش رفت میں تیزی اور رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار مزید مضبوط کریں۔
پینی وونگ نے ویتنام کے ساتھ جامع تزویراتی شراکت داری کے حوالے سے آسٹریلیا کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا دونوں معیشتوں کی تکمیلی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے اور دفاعی و سلامتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے ویتنام کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ نے سپلائی چین روابط، اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری، سبز اور ڈیجیٹل معیشت، نئی توانائی، مستقبل کی صنعتوں اور جدت طرازی کے ماحولیاتی نظام میں روابط سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
علاقائی اور عالمی امور پر دونوں ممالک نے ایسے کھلے، جامع، شفاف اور قواعد پر مبنی علاقائی نظام کی اہمیت پر زور دیا جو تمام ممالک کو امن، استحکام اور خوشحالی میں کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرے۔
دونوں فریقوں نے آسیان کے مرکزی کردار کی اہمیت کا اعادہ کیا اور آسیان، اقوام متحدہ، ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) فورم اور دیگر کثیرالجہتی پلیٹ فارمز کے ذریعے رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
پینی وونگ نے جنوب مشرقی ایشیا اور آسیان کی مرکزیت کے لیے آسٹریلیا کے مضبوط عزم کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی میکانزم میں ویتنام کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کیا۔ انہوں نے 2027 میں ویتنام کی جانب سے اے پی ای سی کی میزبانی کے لیے آسٹریلیا کی حمایت کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ اس سے علاقائی اقتصادی تعاون، پائیدار ترقی اور رابطوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔
جنوبی بحیرہ چین، جسے ویتنام میں مشرقی سمندر کہا جاتا ہے، کے حوالے سے دونوں ممالک نے امن، استحکام، سلامتی، تحفظ اور بحری و فضائی گزرگاہوں کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات اور اختلافات کو پرامن ذرائع سے اور بین الاقوامی قانون، بالخصوص 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS)، کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
دورے کے دوران لے ہوئی ٹرونگ نے آسٹریلیا کے محکمہ خارجہ و تجارت کے حکام کے ساتھ بھی ملاقات کی، جس میں سفارتی امور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کے حوالے سے تجربات کا تبادلہ کیا گیا۔
ویتنامی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک 2045 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہدف کے تحت ایک نئے ترقیاتی ماڈل کی جانب بڑھتے ہوئے ترقی کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں قومی ترقی کے لیے وسائل متحرک کرنے میں خارجہ امور کا کردار مزید تزویراتی اہمیت اختیار کر رہا ہے، جبکہ ترقی پر مبنی سفارت کاری کو سفارتی شعبے کی اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آسٹریلیا ویتنام کی وزارت خارجہ کے ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ اور معاونت جاری رکھے گا تاکہ انسانی وسائل کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے اور ایک پیشہ ور، جامع اور جدید سفارتی سروس کی تشکیل میں مدد ملے۔
ٹرونگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت معیشت، معاشرے، حکمرانی اور بین الاقوامی تعلقات میں گہری تبدیلیاں لا رہی ہے۔ سفارت کاری کے میدان میں اے آئی پالیسی تجزیے، تزویراتی پیش گوئی اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے ساتھ نئے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے آسٹریلیا سے اے آئی گورننس کے فریم ورک کی تیاری، خارجہ پالیسی سازی اور سفارتی سرگرمیوں میں اے آئی کے استعمال، سفارت کاروں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافے اور مصنوعی ذہانت کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور قابلِ اعتماد استعمال کے حوالے سے تجربات شیئر کرنے کی تجویز دی۔
ملاقات کے دوران آسٹریلیا کے محکمہ خارجہ و تجارت نے اعلان کیا کہ وہ ویتنام کی وزارت خارجہ کے حکام کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی تین اسکالرشپس فراہم کرے گا۔
دونوں ممالک نے پالیسی تبادلوں، تربیت اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا، جبکہ وزرائے خارجہ کے اجلاس اور دونوں وزارتوں کے درمیان دیگر تعاون کے طریقہ کار کے تحت مصنوعی ذہانت کو مستقل موضوع کے طور پر شامل کرنے کے امکان کا جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا۔