انڈونیشیا

انڈونیشیا اور قطر کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، قطر کا 4 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے عزم کا اعادہ

Read Time:1 Minute, 50 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے پیر کے روز جکارتہ کے مردیکا پیلس میں قطر کے وزیرِ مملکت برائے خارجہ سلطان بن سعد المریخی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، سرمایہ کاری کے تعاون اور سفارتی تعلقات کی 50ویں سالگرہ کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انڈونیشیا کے کابینہ سیکریٹری ٹیڈی اندرا وجایا نے ایک تحریری بیان میں بتایا کہ قطری وزیر نے ملاقات کے دوران امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی جانب سے صدر پرابوو سوبیانتو کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ امیرِ قطر نے صدر پرابوو کی قیادت اور انڈونیشیا کی اقتصادی ترقی کو سراہتے ہوئے صحت، تعلیم اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے قومی پروگراموں کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔

ملاقات میں امیرِ قطر کے 2026 کے اواخر میں متوقع دورۂ انڈونیشیا پر بھی گفتگو ہوئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 50ویں سالگرہ کی تقریبات کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر قطر نے انڈونیشیا میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ قطری حکومت نے 4 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ دیگر اہم اور اسٹریٹجک شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی راہیں ہموار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

بیان کے مطابق یہ سرمایہ کاری قطر کے انڈونیشیا کی اقتصادی صلاحیتوں پر اعتماد کا مظہر ہے اور دونوں مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔

توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ سرمایہ کاری کا یہ تعاون انڈونیشیا کے قومی ترقیاتی ایجنڈے کو تقویت دینے، اہم اقتصادی شعبوں کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے عملی فوائد پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ انڈونیشیا اور قطر کے تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے مختلف شعبوں تک پھیل چکے ہیں، جو مستقبل میں مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ویتنام Previous post ویتنام کا امریکہ۔ایران امن معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم، جلد دستخط اور مکمل نفاذ پر زور
رحمان Next post صدر امام علی رحمان کی مختلف سرکاری اداروں میں اعلیٰ سطحی تقرریاں، دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر زور