انڈونیشیا

آسیان ممالک کے لیے مشترکہ اے آئی گورننس فریم ورک کی ضرورت، انڈونیشیا کی وزیر مواصلات کا زور

Read Time:2 Minute, 30 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزیر برائے مواصلات و ڈیجیٹل امور میوٹیا حفید نے بدھ کے روز آسیان ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے ایک مشترکہ گورننس فریم ورک تشکیل دیں تاکہ یہ ٹیکنالوجی خطے میں ڈیجیٹل تقسیم کو مزید وسیع نہ کرے۔

جکارتہ میں منعقدہ ایشیا اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اقتصادی ترقی کو تیز کرنے، پیداواریت بڑھانے اور مسابقت کو مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اگر اسے بغیر ضابطے کے چھوڑ دیا جائے تو یہ سنگین خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خطرہ صرف انڈونیشیا تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ہے، اور اگر اس ٹیکنالوجی تک رسائی مساوی نہ ہوئی تو یہ اندرونِ ممالک اور ممالک کے درمیان فرق کو مزید بڑھا دے گی۔

میوٹیا حفید نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے اے آئی زیادہ ترقی کر رہی ہے، ڈیٹا کی اہمیت بڑھ رہی ہے اور یہ سائبر جرائم کے لیے زیادہ پرکشش ہدف بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھوکہ دہی کے طریقوں کی لاگت تقریباً صفر کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کو اب کوئی سرحدیں محدود نہیں کرتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر خطے نے اپنے ڈیٹا پر دوسروں کا کنٹرول قبول کیا تو اس سے مستقبل کی سمت بھی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ ایسے عالمی اے آئی ماڈلز جو مقامی زبانوں اور اقدار کو نظرانداز کریں گے وہ آسیان کی شناخت کو کمزور کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان چیلنجز کا حل ترقی کو روکنا نہیں بلکہ حکمتِ عملی کے ساتھ مشترکہ گورننس فریم ورک تشکیل دینا ہے تاکہ خطرات کو اجتماعی طاقت میں بدلا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا آسیان میں اے آئی کی ترقی کے لیے تین اصولوں—خودمختاری، باہمی ہم آہنگی اور اعتماد—پر مبنی پالیسی کو فروغ دے رہا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ڈیٹا، کمپیوٹنگ صلاحیت اور اے آئی ماڈلز پر قومی کنٹرول کو یقینی بنانا ہے جبکہ مشترکہ معیارات اور سرحد پار تعاون کو بھی فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعتماد کو رکاوٹ نہیں بلکہ ترقی کا ذریعہ سمجھنا چاہیے کیونکہ اسی سے اے آئی کے استعمال میں اضافہ اور سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے۔

میوٹیا حفید نے ڈیجیٹل اکانومی فریم ورک ایگریمنٹ (DEFA) کو خطے میں ڈیجیٹل تعاون کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا اور کہا کہ آسیان کی ڈیجیٹل معیشت اس وقت تقریباً 300 ارب امریکی ڈالر کی ہے جو 2030 تک 2 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ترقی کے ثمرات مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں تک پہنچنے چاہئیں جو آسیان میں تقریباً 97 فیصد کاروباری اداروں پر مشتمل ہیں، تاکہ ڈیجیٹل ترقی کو وسیع تر معاشی خوشحالی میں بدلا جا سکے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ہمیں صرف تیزی سے آگے نہیں بڑھنا بلکہ دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، اور ایک ایسا ڈیجیٹل مستقبل تشکیل دینا ہے جو سب کا مشترکہ ہو۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
اسحاق ڈار Previous post اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی ٹیلیفونک گفتگو، پاک-ترکیہ تعلقات کے فروغ کے عزم کا اعادہ
تاجکستان Next post تاجکستان میں موسم سرما کی تیاریوں سے متعلق ریپبلکن ہیڈکوارٹر کا اجلاس، اہم امور کا جائزہ