
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام 1.03 کروڑ خاندانوں کی معاونت کر رہا ہے، بی بی آصفہ بھٹو زرداری کو بریفنگ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد اور سیکریٹری بی آئی ایس پی امیر علی احمد کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں شرکت کی، جہاں انہیں پروگرام کی پیش رفت، جاری اصلاحات اور ملک بھر کے مستحق خاندانوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔
ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خاتونِ اول کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے بی آئی ایس پی کے لیے 716 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 844 ارب روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بے نظیر کفالت پروگرام کے تحت اس وقت ایک کروڑ 20 لاکھ گھرانوں کو سہ ماہی بنیادوں پر 14 ہزار 500 روپے نقد معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ جنوری 2027 سے یہ وظیفہ بڑھا کر 18 ہزار روپے کرنے کا منصوبہ ہے۔
خاتونِ اول کو آگاہ کیا گیا کہ بے نظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت ایک کروڑ 24 لاکھ بچوں کو تعلیمی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کے لیے کم از کم 70 فیصد اسکول حاضری کی شرط رکھی گئی ہے۔ اسی طرح بے نظیر نشوونما پروگرام کے تحت تقریباً 20 لاکھ حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کو معاونت دی جا رہی ہے، جبکہ پائلٹ مرحلے کے تحت 52 ہزار نوعمر لڑکیوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کے زیرِ سرپرستی شروع کیے گئے بے نظیر ہنرمند پروگرام کے تحت مستحق افراد کو مفت فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے اور اب تک 7 ہزار سے زائد افراد اس پروگرام میں داخلہ لے چکے ہیں۔
ڈیجیٹل اصلاحات کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیراعظم کے ’’کیش لیس اکانومی‘‘ اقدام کے تحت ایک کروڑ سے زائد مستحقین کو ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹس کے ذریعے باضابطہ مالیاتی نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے 85 لاکھ سے زائد مفت سمز تقسیم اور والٹس سے منسلک کی جا چکی ہیں، جبکہ 4 لاکھ 10 ہزار سے زائد مستحقین کو ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی کی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری میں 3 کروڑ 87 لاکھ گھرانوں کا ڈیٹا موجود ہے، جبکہ ڈائنامک رجسٹری کے تحت 2 کروڑ 30 لاکھ گھرانوں نے اپنی معلومات اپ ڈیٹ کی ہیں۔ حالیہ دوبارہ تصدیقی عمل کے نتیجے میں 35 لاکھ سے زائد نئے ممکنہ مستحق خاندانوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
خاتونِ اول کو عالمی بینک کے ایک مطالعے سے بھی آگاہ کیا گیا، جس کے مطابق بی آئی ایس پی ایک کروڑ 3 لاکھ سے زائد خاندانوں کی معاونت کر رہا ہے، جو پاکستان کے تقریباً 24 فیصد گھرانوں کا احاطہ کرتا ہے۔ مطالعے کے مطابق پروگرام کے تحت تقسیم کیے جانے والے ہر ایک روپے کے بدلے مقامی معیشت میں 2.34 روپے کی حقیقی آمدنی پیدا ہوتی ہے۔
مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا کہ مجموعی آمدنی میں اضافے کا 68 فیصد حصہ غریب ترین 40 فیصد گھرانوں کو حاصل ہوتا ہے، جبکہ یہ پروگرام 16 لاکھ 60 ہزار کل وقتی مساوی روزگار کے مواقع کی معاونت کرتا ہے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ بی آئی ایس پی سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو سالانہ تقریباً 174 ارب روپے کی واپسی ہوتی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے اس وژن کی پائیدار عکاسی ہے جس کا مقصد معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو سہارا اور مواقع فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے شفافیت، مالی شمولیت اور خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جاری اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مؤثر سماجی تحفظ کے پروگرام مستحق خاندانوں کی مدد اور خواتین کو معاشی و سماجی زندگی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اپنے استقبالیہ کلمات میں چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ 2008 میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے قائم کیا گیا یہ پروگرام کمزور طبقات کے لیے باوقار سماجی تحفظ کے عزم کا عملی مظہر ہے اور اب بی آئی ایس پی صرف نقد امداد تک محدود نہیں بلکہ ایک مربوط، ڈیجیٹل اور بااختیار بنانے والے سماجی تحفظ کے نظام کی جانب گامزن ہے۔
تقریب میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ، رکن قومی اسمبلی شازیہ مری، رکن قومی اسمبلی میر غلام علی ٹالپور اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے چیئرمین سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔