مکہ

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ برسوں کی مشاورت کا نتیجہ، تعاون کے فروغ اور علاقائی امن کی جانب اہم پیش رفت ہے: اسحاق ڈار

Read Time:2 Minute, 13 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حال ہی میں طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ (مکہ ایکارڈ) برسوں سے جاری مشاورت اور باہمی رابطوں کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔

اتوار کو اپنے ایک بیان میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مکہ ایکارڈ خالصتاً دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ کسی موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کی جگہ نہیں لیتا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی اور باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان برسوں سے جاری مذاکرات اور رابطہ کاری کے بعد طے پایا ہے، جس کا بنیادی مقصد مختلف امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تزویراتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد کسی ریاست کو ہدف بنانا نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اجتماعی دفاع کے حق سے مطابقت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ ایکارڈ خطے میں پائیدار دفاعی صلاحیتوں کی تعمیر اور باہمی یکجہتی کے فروغ پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ معاہدہ ان علاقائی ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پرامن ذرائع سے اختلافات کے حل پر یقین رکھتے ہوں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھتے ہوئے دیرپا امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تمام تنازعات کے پرامن حل اور خطے کے عوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تشکیل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعاون کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف اور بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کی آئندہ ہفتے جکارتہ میں پہلی ملاقات متوقع Previous post شہباز شریف اور بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کی آئندہ ہفتے جکارتہ میں پہلی ملاقات متوقع
زرداری Next post صدر مملکت آصف علی زرداری کی سنگاپور کے قومی دن پر صدر، حکومت اور عوام کو مبارکباد