برطانیہ

برطانیہ اور مراکش کی بحری افواج کی مشترکہ مشقیں، دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

Read Time:3 Minute, 13 Second

مراکش، یورپ ٹوڈے: برطانیہ کی رائل نیوی اور رائل مراکین نیوی نے آبنائے جبرالٹر کے قریب مشترکہ بحری اور غوطہ خور مشقوں کا انعقاد کیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے اور بحری روابط کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

برطانوی رائل نیوی کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق جبرالٹر کلیئرنس ڈائیونگ ایلیمنٹ کے چار رکنی غوطہ خور دستے اور ایک انجینئر نے جنگی بحری جہاز "ایچ ایم ایس ڈاگر” کے ذریعے آبنائے جبرالٹر عبور کر کے مراکش کے قصر الصغیر نیول بیس اور طنجہ مرینا کا دورہ کیا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

مشقوں کے پہلے روز مراکشی بحری غوطہ خوروں نے ایچ ایم ایس ڈاگر اور واہانا کلاس ڈائیونگ سپورٹ بوٹ کا معائنہ کیا، جہاں برطانوی عملے نے اپنے آلات اور آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

اگلے روز تمام شرکاء قصر الصغیر نیول بیس میں جمع ہوئے، جہاں رائل مراکین نیوی ڈائیونگ اسکول کے کمانڈنٹ کموڈور منیر تمیم نے وفود کا خیرمقدم کیا۔ بعد ازاں شرکاء کو مراکشی بحری غوطہ خوروں کی تربیتی اور آپریشنل سہولیات کا دورہ بھی کرایا گیا۔

مشترکہ مشق کی قیادت رائل مراکین نیوی کے لیفٹیننٹ السعیدی نے کی۔ مشق کے دوران برطانوی اور مراکشی غوطہ خوروں کی مشترکہ ٹیموں نے جدید "آرٹیمس پرو” ہینڈ ہیلڈ سونار نظام استعمال کرتے ہوئے پانی میں لاپتہ فرد کی فرضی تلاش کا کامیاب مظاہرہ کیا۔ سونار کو درپیش مداخلت کے باوجود ٹیموں نے چند ہی منٹوں میں ہدف کا سراغ لگا لیا۔

جبرالٹر ڈائیونگ ایلیمنٹ کے انچارج چیف پیٹی آفیسر رابرٹس نے کہا کہ اس مشق سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے قائم پیشہ ورانہ تعلقات اور دوستی کو مزید فروغ ملا، جبکہ مراکشی بحریہ کو نئے آلات کو عملی حالات میں آزمانے کا موقع بھی حاصل ہوا۔

مشقوں کے بعد کموڈور منیر تمیم نے تمام شرکاء کے اعزاز میں ظہرانہ دیا، جس میں برطانیہ کے دفاعی اتاشی لیفٹیننٹ کرنل گیرتھ اوسٹروین بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کے فروغ اور مستقبل میں مشترکہ تربیتی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

فریقین نے اس بات پر بھی غور کیا کہ مستقبل میں رائل مراکین نیوی کے اہلکاروں کو جبرالٹر میں تربیتی سرگرمیوں کے لیے مدعو کیا جائے۔

خراب موسمی حالات کے باعث ایچ ایم ایس ڈاگر اور واہانا نے منصوبہ بندی سے قبل واپسی اختیار کی، تاہم روانگی سے قبل دونوں بحری افواج نے مشترکہ بحری نقل و حرکت اور آپریشنل مشقیں بھی انجام دیں۔ ان سرگرمیوں میں رائل مراکین نیوی کی گشتی کشتی GC-133 نے بھی حصہ لیا۔

ایچ ایم ایس ڈاگر کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ ریان پرائس نے کہا کہ یہ دورہ مراکشی ہم منصبوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کی آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا بہترین موقع ثابت ہوا۔ انہوں نے مراکشی بحریہ کی میزبانی اور مستقبل میں تعاون بڑھانے کے عزم کو سراہا۔

دریں اثنا، مراکش امریکہ کی قیادت میں ہونے والی بڑی کثیرالقومی بحری مشق "فلیٹ ایکسرسائز 250” (FLEETEX 250) میں بھی شریک ہے، جو 16 جون سے امریکی ریاست ورجینیا کے نیول اسٹیشن نورفوک سے شروع ہوئی۔ اس مشق میں 19 ممالک کے جنگی جہاز، طیارے اور بحری عملہ حصہ لے رہے ہیں۔

یہ مشق 29 جون تک جاری رہے گی، جس میں فضائی دفاع، آبدوز شکن کارروائیوں اور ساحلی آپریشنز سمیت مختلف جنگی تربیتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ مشقوں کے بعد شریک بحری یونٹس امریکہ کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر نیویارک میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی بحری جائزے میں بھی شرکت کریں گے۔

مراکش کی یہ سرگرمیاں "افریقن لائن 2026” نامی براعظم افریقہ کی سب سے بڑی مشترکہ فوجی مشق کے اختتام اور رباط و واشنگٹن کے درمیان 2026 سے 2036 تک کے لیے طے پانے والے نئے 10 سالہ دفاعی تعاون کے روڈ میپ کے بعد سامنے آئی ہیں، جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا کا ماحول دوست توانائی منتقلی کے عزم کا اعادہ، پائیدار ترقی کو ترجیح قرار
تاجکستان Next post تاجکستان کی اوپیک ڈویلپمنٹ فورم میں شرکت، پائیدار ترقی اور عالمی تعاون پر تبادلہ خیال