
فرانس کا آذربائیجان-آرمینیا امن عمل پر مؤقف جانبدارانہ، علاقائی حقائق کو نظرانداز کیا جا رہا ہے: آذربائیجان
باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان آئخان حاجی زادہ نے فرانس کی وزارتِ یورپ و خارجہ امور کی جانب سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تعلقات کی بحالی کے عمل سے متعلق جاری کردہ بیانات کو بے بنیاد، جانبدارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
میڈیا نمائندوں کے سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ 23 جون کو فرانسیسی قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے جوابات، جن میں نگورنو کاراباخ سے بے گھر ہونے والے آرمینی باشندوں، آرمینی قیدیوں، مذہبی و ثقافتی ورثے اور انسانی حقوق سے متعلق دعوے شامل تھے، فرانس کے طویل عرصے سے جاری یکطرفہ مؤقف کا ایک اور مظہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرانسیسی حکام آرمینیا کی سلامتی، نگورنو کاراباخ کے آرمینی باشندوں اور آرمینی زیرِ حراست افراد کے معاملات پر تو بھرپور توجہ دیتے ہیں، تاہم آذربائیجان کے علاقوں پر آرمینیا کے تقریباً 30 سالہ قبضے، اس دوران ہونے والی تباہی، دس لاکھ سے زائد آذربائیجانی مہاجرین اور بے گھر افراد کی مشکلات، لاپتہ افراد کے مسئلے اور بارودی سرنگوں کے خطرے کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔
آئخان حاجی زادہ نے کہا کہ اگرچہ فرانس خود کو امن عمل کا حامی ظاہر کرتا ہے، تاہم آرمینیا کے ساتھ اس کے دفاعی تعاون اور یورپی یونین مشن اِن آرمینیا (EUMA) کی سرگرمیوں کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ فرانس خطے میں غیر جانبدار کردار ادا نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمینیا کو اسلحے کی فراہمی اور یکطرفہ سیاسی حمایت امن کے بجائے انتقامی رجحانات کو فروغ دیتی ہے اور تعلقات کی بحالی کے عمل کو نقصان پہنچاتی ہے۔
انہوں نے آرمینی قیدیوں سے متعلق الزامات کو حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا اور عدالتی فیصلوں پر سوال اٹھانا ناقابلِ قبول ہے۔ ان کے مطابق آذربائیجان میں زیرِ حراست آرمینی نژاد افراد کو قومی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت مخصوص جرائم کے ارتکاب پر سزا دی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ وہ علیحدگی پسند رہنما اور دیگر افراد، جنہیں آرمینیا اور فرانس نے کئی دہائیوں تک حمایت فراہم کی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر، فوجی جارحیت، تشدد اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے اور قانونی کارروائی کے بعد سزائیں بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے فرانسیسی مؤقف کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانس نے آذربائیجان کے ثقافتی ورثے کی تباہی، مساجد کی مسماری اور سابق مقبوضہ علاقوں میں ہونے والی توڑ پھوڑ کو نظرانداز کیا، لیکن آرمینی ثقافتی اور مذہبی ورثے سے متعلق دعوؤں پر تبصرہ کر رہا ہے۔
آئخان حاجی زادہ نے مزید کہا کہ فرانس، جو حالیہ برسوں میں بدعنوانی کے اسکینڈلز، پولیس تشدد، مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال، صحافیوں پر دباؤ، تارکینِ وطن کے حقوق کی خلاف ورزیوں، مذہبی امتیاز اور نیو کیلیڈونیا سمیت بیرونِ ملک علاقوں میں تشدد جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، انسانی حقوق کا علمبردار بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پیرس اب بھی جنوبی قفقاز کی موجودہ حقیقتوں کو تسلیم کرنے میں مشکلات کا شکار ہے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے فروغ کے بجائے فرسودہ اور یکطرفہ سیاسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
ترجمان نے زور دیا کہ اس طرزِ عمل سے نہ صرف خطے میں فرانس کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ ایک قابلِ اعتماد بین الاقوامی شراکت دار کے طور پر اس کی حیثیت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔