
مراکش کے سرکاری اداروں کی سرمایہ کاری میں 98 فیصد اضافہ، منافع اور آمدنی میں نمایاں بہتری
اگادیر، یورپ ٹوڈے: مراکش کے سرکاری اداروں اور سرکاری ملکیتی کمپنیوں کے پورٹ فولیو میں نمایاں ترقی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں سرمایہ کاری کے حجم میں 98 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات مراکش کی وزیرِ معیشت و خزانہ نادیہ فتاح نے منگل کو ایوانِ مشیران سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔
سرکاری اداروں اور کاروباری اداروں کی اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے نادیہ فتاح نے کہا کہ مراکش کے سرکاری پورٹ فولیو نے ایسے "ٹھوس اور قابلِ پیمائش” نتائج حاصل کیے ہیں جو گورننس، کارکردگی اور اقتصادی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے جاری جامع اصلاحاتی پروگرام کی کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق جائزہ مدت کے دوران سرکاری اداروں اور کمپنیوں کے کاروباری حجم (ٹرن اوور) میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خالص منافع 16.4 ارب مراکشی درہم سے بڑھ کر 26.6 ارب مراکشی درہم تک پہنچ گیا، جو 2022 میں درپیش چیلنجز کے بعد مضبوط بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے قومی بجٹ میں منتقل کی جانے والی رقوم میں بھی 54 فیصد اضافہ ہوا، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ مراکش کے سرکاری ادارے قدر پیدا کرنے اور قومی مالیات میں مؤثر کردار ادا کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت رکھتے ہیں۔
نادیہ فتاح نے زور دے کر کہا کہ سرکاری ادارے ریاستی پالیسیوں کے نفاذ، اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور عوامی خدمات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی سرکاری اداروں اور ریاستی ملکیتی کمپنیوں کی اصلاحات کا موضوع زیرِ بحث آتا ہے تو یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سرکاری اداروں کی ضرورت کیوں ہے۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ یہ ادارے اقتصادی ترقی کی مالی معاونت، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ملک بھر میں بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار مالی وسائل تک رسائی میں مشکلات کا شکار ہوں تو ان کی مالی معاونت یا ضمانت کون فراہم کرے گا؟ مملکت کے آبی تحفظ کو یقینی بنانے والے ڈیموں میں سرمایہ کاری کون کرے گا؟ بندرگاہیں، شاہراہیں اور ریلوے لائنیں کون تعمیر کرے گا؟
نادیہ فتاح نے سرکاری اداروں کو محض انتظامی ڈھانچے قرار دینے کے بجائے انہیں ریاستی پالیسیوں کے نفاذ، شاہی ہدایات کو ترقیاتی منصوبوں میں تبدیل کرنے اور شہریوں تک خدمات پہنچانے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ مراکش نے "ریاستی ملکیت پالیسی” اختیار کی ہے جس کے تحت سرکاری اداروں اور کمپنیوں کو الگ الگ اداروں کے بجائے ایک مربوط اسٹریٹجک پورٹ فولیو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اس تبدیلی کے اہم مراحل میں ریاستی اثاثوں کے اسٹریٹجک انتظام اور سرکاری اداروں و کمپنیوں کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے قومی ایجنسی کا قیام بھی شامل ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مراکش بتدریج ہر ادارے کو الگ الگ چلانے کے ماڈل سے نکل کر "ریاستی شیئر ہولڈر” کے تصور کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے تحت اسٹریٹجک اہداف کا تعین، نتائج کی پیمائش اور کارکردگی کی نگرانی کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری پورٹ فولیو کی ترقی صرف مالیاتی اشاریوں میں بہتری تک محدود نہیں بلکہ جدید انتظامی طرزِ حکمرانی، سرمایہ کاری کے فروغ، قدر کی تخلیق اور پائیدار مالیاتی نظام کے قیام کی بھی عکاس ہے، جس سے ریاستی ضمانتوں پر انحصار کم ہو رہا ہے۔
یہ اصلاحات مراکش کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد سرکاری شعبے کی گورننس کو مضبوط بنانا، اقتصادی مسابقت میں اضافہ کرنا اور ملک کی طویل المدتی ترقی میں سرکاری اداروں اور کمپنیوں کے کردار کو مزید مؤثر بنانا ہے۔