
آذربائیجان اور اٹلی کا اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان اور اٹلی نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
یہ اتفاق رائے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیحون بایراموف اور اٹلی کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے آذربائیجان اور اٹلی کے درمیان اعلیٰ سطح کے سیاسی رابطوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ موسمِ خزاں میں اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا کے آذربائیجان کے سرکاری دورے، جنوری میں آذربائیجان۔اٹلی بین الحکومتی اقتصادی تعاون کمیشن کے اجلاس، اور مئی میں اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی کے آذربائیجان کے دورے کو باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی تعلقات کی مضبوطی کی واضح مثال قرار دیا۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے سیاسی روابط اور اعلیٰ سطح کے باہمی دوروں کا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تجارت، معیشت، توانائی، ٹرانسپورٹ، صنعت، سرمایہ کاری اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ آئندہ موسمِ خزاں میں منعقد ہونے والا آذربائیجان۔اٹلی بزنس فورم دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ اور اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
انہوں نے ستمبر میں دی یورپی ہاؤس – امبروسیٹی (The European House – Ambrosetti) کے اشتراک سے منعقد ہونے والی کانفرنس کی تیاریوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس آذربائیجان اور اٹلی کے درمیان سیاسی و اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
توانائی کے شعبے میں تعاون کو اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے دونوں وزراء نے سوکار (SOCAR) اور اٹالیانا پیٹرولی (Italiana Petroli) کے درمیان کامیاب شراکت داری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سوکار کی جانب سے اطالوی کمپنی کے حصول نے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قائم کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی منصوبوں کو مزید فروغ دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ٹیلیفونک گفتگو کے اختتام پر دونوں وزرائے خارجہ نے جنوبی قفقاز میں تنازع کے بعد امن کے عمل، مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔