تاجکستان

تاجکستان کی امن کے فروغ کی عالمی کاوش، اقوام متحدہ کی قرارداد پر دوشنبے میں کانفرنس کا انعقاد

Read Time:1 Minute, 51 Second

دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کی حکومت کے تحت خواتین و خاندانی امور کی کمیٹی کے زیرِ اہتمام 27 جون کو اقوام متحدہ کی قرارداد "آئندہ نسلوں کے لیے امن کے استحکام کی بین الاقوامی دہائی (2027ء تا 2036ء)” کی منظوری کے حوالے سے ایک خصوصی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ صدر امام علی رحمان کی قیادت میں تاجکستان نے آزادی کے بعد عالمی سطح پر پانی اور موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تحفظ، نیز بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ جیسے اہم عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں ایک متحرک اور ذمہ دار ملک کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔

مقررین نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے "آئندہ نسلوں کے لیے امن کے استحکام کی بین الاقوامی دہائی (2027ء تا 2036ء)” سے متعلق قرارداد کی منظوری کے لیے تاجکستان کی پیش کردہ تجویز ملک کی دیرینہ امن پسند خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے۔

کانفرنس کو بتایا گیا کہ اس اقدام کا مقصد امن کے کلچر کو فروغ دینا، تنازعات کی روک تھام، رواداری اور باہمی افہام و تفہیم کو مستحکم کرنا، اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو وسعت دینا ہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔

شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس بین الاقوامی دہائی کے اہداف پر مؤثر عملدرآمد سے ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا اور پائیدار عالمی ترقی کے حصول میں مدد ملے گی۔

کانفرنس میں امن کے فروغ، انتہا پسندی کی روک تھام اور نئی نسل کی حب الوطنی، رواداری اور آفاقی انسانی اقدار کے احترام کی بنیاد پر تربیت میں خواتین کے اہم کردار پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

مقررین نے کہا کہ اس عالمی اقدام کے مقاصد کے حصول اور دیرپا امن و پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے خواتین اور نوجوانوں کی فعال شرکت ناگزیر ہے۔

شرکاء نے بین الاقوامی سطح پر تاجکستان کی مسلسل امن دوست اور تعمیری کاوشوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف عالمی امن کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ عالمی برادری میں تاجکستان کے ایک امن پسند، فعال اور ذمہ دار رکن کے طور پر مقام کو مزید مضبوط کریں گے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا نے نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے رو-رو لاجسٹکس شپنگ میں کاروباری رکاوٹیں ختم کرنے کا اعلان
برطانیہ Next post پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفارتی رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا