دیامر

دیامر میں بادل پھٹنے سے تباہ کن سیلاب، این ڈی ایم اے کا گلوف الرٹ جاری

Read Time:4 Minute, 31 Second

چلاس، یورپ ٹوڈے: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی تھور وادی میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے باعث متعدد مکانات، باغات، کھڑی فصلیں، رابطہ پل اور گاڑیاں سیلابی ریلے کی نذر ہوگئیں، جبکہ سڑکیں بند ہونے سے متاثرہ علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ دوسری جانب قومی ادارہ برائے قدرتی آفات (این ڈی ایم اے) نے شمالی پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور اچانک سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات سے متعلق تازہ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق جمعہ کو ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد تھور وادی میں شدید فلیش فلڈ آیا، جس نے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ پولیس کے مطابق سیلابی ریلے نے متعدد مکانات، باغات، زرعی اراضی، رابطہ پل اور گاڑیاں بہا دیں، جبکہ واپڈا کالونی بھی سیلاب کی لپیٹ میں آگئی، جہاں عمارتوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تھور وادی کو ضلع کے دیگر علاقوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ متعدد مقامات پر بند ہوگئی ہے، جس کے باعث بڑی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے اور امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

متاثرین نے حکومت سے فوری امدادی کارروائی، نقصانات کا تخمینہ لگانے اور متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک متاثرہ شہری نے بتایا کہ سیلاب میں ان کا بھاری مالی نقصان ہوا ہے اور ان کے زیورات بھی پانی میں بہہ گئے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈیزاسٹر مینجمنٹ دیامر امتیاز احمد نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں تک رسائی بحال کرنے اور امدادی سامان پہنچانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ان کے مطابق سڑکوں کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاہم راستوں کی بندش امدادی ٹیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور متاثرہ آبادی تک جلد از جلد رسائی بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

دریں اثنا، قومی ادارہ برائے قدرتی آفات (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (NEOC) نے 27 جون سے 3 جولائی تک گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف)، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے بڑھتے ہوئے خطرات سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق مسلسل بلند درجہ حرارت اور متوقع بارشوں کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا عمل دریاؤں اور پہاڑی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جبکہ گلیشیائی جھیلوں پر دباؤ بڑھنے سے گلوف کے واقعات رونما ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

الرٹ میں ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، کھرمنگ، استور، دیامر، اپر و لوئر چترال، سوات اور دیگر ملحقہ پہاڑی علاقوں کو زیادہ حساس قرار دیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) نے بھی خبردار کیا ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے تک درجہ حرارت میں اضافے کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے شمالی علاقوں میں برف اور گلیشیئرز تیزی سے پگھلیں گے۔ محکمہ کے مطابق اس صورتحال کے باعث دریاؤں میں پانی کا بہاؤ غیر معمولی حد تک بڑھ سکتا ہے، موجودہ گلیشیائی جھیلیں پھیل سکتی ہیں اور نئی جھیلیں بھی وجود میں آ سکتی ہیں، جبکہ قدرتی برفانی یا مٹی کے پشتے کمزور ہونے سے گلوف کے واقعات، مٹی کے بڑے ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں، سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں، گلیشیائی جھیلوں اور پہاڑی برساتی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کریں، حساس علاقوں میں کیمپنگ یا ٹریکنگ نہ کریں اور غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانوں سے دور رہیں۔

این ڈی ایم اے نے بھی عوام کو ہدایت کی ہے کہ پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے سے قبل سرکاری موسمی انتباہات سے آگاہی حاصل کریں اور پانی کی سطح میں اچانک اضافے، پانی کے رنگ میں غیر معمولی تبدیلی یا گلیشیئرز سے غیر معمولی آوازیں سنائی دینے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکوں، پلوں، آبپاشی کے نظام اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ نشیبی علاقوں میں سیلاب اور مختلف شاہراہوں کی عارضی بندش کا بھی خدشہ موجود ہے۔

این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو گلیشیئرز، گلیشیائی جھیلوں، دریاؤں اور موسمی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی ہے، جبکہ محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری کے بعد خیبرپختونخوا پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اپر و لوئر چترال، اپر دیر، سوات، اپر و لوئر کوہستان اور مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنرز کو حساس مقامات کی کڑی نگرانی، انخلاء کی مشقوں، ہنگامی پناہ گاہوں کی تیاری، عوامی آگاہی مہم اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کو بروقت خبردار کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سیلابی نقصان کی صورت میں سڑکوں اور پلوں کی بحالی بروقت یقینی بنائی جا سکے۔

حکام نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ شمالی پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے تناظر میں انسانی جانوں، مویشیوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے تمام ضروری احتیاطی اقدامات فوری طور پر یقینی بنائے جائیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
برطانیہ Previous post پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفارتی رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا
پاکستان Next post کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر حملہ ناکام، تین دہشت گرد ہلاک، ایک گرفتار، تین اہلکار شہید: آئی ایس پی آر