
اقوام متحدہ میں تاجکستان کی امن سے متعلق تاریخی قرارداد کی منظوری، دوشنبے میں سائنسی کانفرنس کا انعقاد
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کی حالیہ عالمی سفارتی کامیابی کے اعتراف میں، 27 جون کو تاجک ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی میں ایک سائنسی و نظریاتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے تاجکستان کی نئی پیش کردہ قرارداد "مستقبل کی نسلوں کے لیے امن کے استحکام کی بین الاقوامی دہائی” کی منظوری کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
"قومی اتحاد — عالمی سطح پر جمہوریہ تاجکستان کے اقدام ‘مستقبل کی نسلوں کے لیے امن کے استحام کی بین الاقوامی دہائی’ کی منظوری کی مضبوط بنیاد” کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں ماہرین تعلیم، محققین اور جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی اہمیت اور عالمی امن کے فروغ میں تاجکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
کانفرنس کے مقررین نے اس اقدام کی منظوری کو تاجکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی برادری کی جانب سے ملک کی امن دوست خارجہ پالیسی، بالخصوص صدر امام علی رحمان کی قیادت میں اختیار کیے گئے وژن، پر اعتماد کا مظہر ہے۔
تقریب کے دوران شرکاء نے تاجکستان کا قومی پرچم بلند کرکے اور امن، قومی اتحاد اور یکجہتی کے پیغامات پر مشتمل بینرز اٹھا کر ملکی قیادت سے اپنی وابستگی اور حمایت کا اظہار کیا۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد صدر امام علی رحمان کی دور اندیش قیادت اور عالمی سطح پر پیش کیے گئے تعمیری اقدامات کی عکاسی کرتی ہے، جس سے عالمی امن کے فروغ میں تاجکستان کا کردار مزید مستحکم ہوگا اور ملک بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک فعال اور مؤثر شراکت دار کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کرے گا۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ "مستقبل کی نسلوں کے لیے امن کے استحکام کی بین الاقوامی دہائی” آئندہ دس برسوں کے دوران پائیدار عالمی استحکام، پرامن تعاون کے فروغ اور آنے والی نسلوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم بین الاقوامی فریم ورک فراہم کرے گی۔
شرکاء نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ قومی اتحاد ہی وہ بنیادی قوت ہے جس کی بدولت تاجکستان بین الاقوامی سطح پر اپنی تجاویز کو کامیابی سے منوانے اور عالمی سفارتی منظرنامے میں اپنی ساکھ کو مزید مستحکم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔