
آذربائیجان امریکہ کا اہم تزویراتی شراکت دار، امریکی قیادت کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے: امریکی رکن کانگریس ابراہم حمادہ
باکو، یورپ ٹوڈے: امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن ابراہم حمادہ نے کہا ہے کہ آذربائیجان کا حالیہ دورہ اور صدر الہام علییف سے ملاقات اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ امریکہ کا عالمی اثر و رسوخ اس وقت سب سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب وہ اپنے قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ فعال انداز میں روابط استوار رکھتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے نیوز میکس (Newsmax) میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں ابراہم حمادہ نے کہا کہ اس دورے نے یہ واضح کیا ہے کہ امریکہ کے اتحادی آج بھی امریکی قیادت کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ آذربائیجان کو واشنگٹن میں ہمیشہ نمایاں توجہ حاصل نہیں رہتی، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ دنیا کے انتہائی اہم تزویراتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
ان کے مطابق یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع اور روس و ایران کی سرحدوں سے متصل آذربائیجان توانائی کی پیداوار، بین الاقوامی نقل و حمل اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں ایک ناگزیر شراکت دار بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان یورپ کی توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے، تجارتی راہداریوں کو وسعت دینے اور غیر مستحکم خطے میں استحکام کے فروغ میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہا ہے۔
ابراہم حمادہ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت اقتصادی ترقی، علاقائی استحکام اور طویل المدتی خوشحالی کے لیے نئی راہیں ہموار کرتی ہے، تاہم یہ تمام مواقع صرف پائیدار امن کی فضا میں ہی ثمرآور ثابت ہو سکتے ہیں۔
امریکی رکن کانگریس نے کہا کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان طے پانے والا تاریخی امن معاہدہ ایک ایسا سیاسی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کی کامیابی کے لیے مسلسل بین الاقوامی تعاون اور حمایت ناگزیر ہوگی۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلہ کن مرحلے پر امریکہ کے لیے خطے سے لاتعلق رہنا کسی صورت مناسب نہیں ہوگا اور واشنگٹن کو اپنے تعمیری کردار کو جاری رکھنا چاہیے۔