
آذربائیجان کا خطے میں ڈیجیٹل قیادت کا ہدف، ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ کونسل کا پہلا اجلاس، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی پر زور
باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کی پہلی نائب صدر مہر بان علیئیوا نے پیر کے روز ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سکیورٹی اور جدت کو قومی ترقی کے بنیادی ستونوں کے طور پر فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
اجلاس سے افتتاحی خطاب میں مہر بان علیئیوا نے کہا کہ کونسل کا قیام صدر الہام علیئیف کی جانب سے فروری میں آذربائیجان کی نئی ڈیجیٹل ترقیاتی حکمتِ عملی سے متعلق اجلاس میں جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں عمل میں لایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 2026 تا 2028 ایکشن پلان برائے تیز رفتار ڈیجیٹل ترقی کی منظوری دی جا چکی ہے، جو آئندہ تین برسوں میں ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور ملک کے جدت پر مبنی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔
مہر بان علیئیوا نے کہا کہ کونسل کا بنیادی مقصد مختلف سرکاری اداروں کی سرگرمیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، ایک مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا اور منظور شدہ فیصلوں پر بروقت اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف صرف نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانا نہیں بلکہ ایک جدید اختراعی نظام تشکیل دینا، مقامی و غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، مقامی اسٹارٹ اپس کی سرپرستی کرنا، عوامی انتظامیہ کو مؤثر بنانا اور قومی معیشت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کو عالمی ترقی کا اہم محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کے پیش نظر سائبر سکیورٹی اور معلوماتی تحفظ سے متعلق نئے چیلنجز سے نمٹنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد آذربائیجان کو ڈیجیٹل ترقی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل کرنا ہے، جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی بہترین تجربات سے استفادہ کیا جائے گا اور تمام پالیسیاں قومی مفادات کے مطابق ترتیب دی جائیں گی۔
اجلاس کے دوران ڈیجیٹل ترقی و ٹرانسپورٹ کے وزیر رشاد نبیئیف نے ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکمتِ عملی میں ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت، جدت اور سائبر سکیورٹی سے متعلق 58 اقدامات شامل ہیں، جبکہ 40 سرکاری اداروں کے اشتراک سے روڈ میپس تیار کیے گئے ہیں، جن میں سے 13 کی منظوری ہو چکی ہے یا وہ آخری مرحلے میں ہیں۔
انہوں نے قومی ڈیٹا سینٹر کے قیام اور سرکاری معلوماتی نظام کو گورنمنٹ کلاؤڈ پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کے عمل سے متعلق پیش رفت بھی پیش کی۔
رشاد نبیئیف کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران mygov ڈیجیٹل سروسز پلیٹ فارم کے صارفین کی تعداد 27 لاکھ سے بڑھ کر 35 لاکھ ہو گئی ہے، جبکہ مزید سرکاری خدمات بھی اس پلیٹ فارم میں شامل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال کے اختتام سے قبل مزید سات سرکاری ایپلی کیشنز کی خدمات بھی اس پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایکشن پلان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس کے تحت mygov اور دیگر سرکاری اداروں میں AI پر مبنی سہولیات کو وسعت دی جا رہی ہے، جن میں ایک ورچوئل سٹیزن اسسٹنٹ بھی شامل ہوگا۔
وزیر نے مزید بتایا کہ ملک کی ٹیکنالوجی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے آذربائیجان ریزیلینس کلسٹر قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ قومی سکیورٹی آپریشنز سینٹر، قومی سائبر حادثہ رسپانس سینٹر، ڈیجیٹل فرانزک سینٹر اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے لیے ایک متحدہ قومی سائبر سکیورٹی پلیٹ فارم کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔
صدر کے معاون شاہمار مووسموف نے اجلاس کو ڈیجیٹل تبدیلی سے متعلق قانون سازی میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صدر الہام علیئیف کی قیادت اور پہلی نائب صدر مہر بان علیئیوا کی نگرانی میں تیار کی جانے والی یہ اصلاحات سوویت یونین کے بعد کے خطے میں ڈیجیٹل قانون سازی کے جامع ترین اقدامات میں شمار ہوتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان اصلاحات کا مقصد قانونی شفافیت کو مضبوط بنانا، مسابقتی ٹیکس نظام تشکیل دینا، اختراعات کی مالی معاونت، سائنسی تحقیق کا فروغ، باصلاحیت افراد کو راغب کرنا، منڈیوں تک رسائی بڑھانا اور سائبر سکیورٹی کے قانونی ڈھانچے کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانا ہے۔
وزیرِ سائنس و تعلیم امین عمرالئیف نے تعلیم کے شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ تعلیمی اداروں کے لیے مشترکہ انٹرنیٹ نیٹ ورک کی توسیع، ڈیجیٹل اسکول منصوبہ، تعلیمی ریکارڈ اور دستاویزات کی ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ڈیجیٹل تدریسی طریقوں کے نفاذ پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اسکلز اور STEAM آذربائیجان پروگرام طلبہ کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو فروغ دے رہے ہیں، جبکہ انسانی وسائل کی ترقی آذربائیجان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمتِ عملی کا مرکزی جزو ہے۔
اجلاس کے اختتام پر ملک کی ڈیجیٹل ترقیاتی حکمتِ عملی پر عمل درآمد اور مستقبل کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن کا مقصد آذربائیجان کو ڈیجیٹل جدت، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں خطے کا نمایاں رہنما بنانا ہے۔