سپین

سپین میں شدید گرمی کی لہر سے ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق، رواں سال کا پہلا نصف ریکارڈ پر گرم ترین قرار

Read Time:2 Minute, 40 Second

میڈرڈ، یورپ ٹوڈے: سپین میں حالیہ شدید گرمی کی لہر کے دوران گرمی سے متعلق وجوہات کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ملک میں رواں سال کا پہلا نصف ریکارڈ پر گرم ترین عرصہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات بدھ کے روز حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں سامنے آئی۔

سپین کے کارلوس تھری ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ جاری رہنے والی شدید گرمی کی لہر کے دوران کم از کم 1,028 افراد گرمی سے متعلق وجوہات کے باعث ہلاک ہوئے، جو جون 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 407 اموات کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جون 2015 کے بعد یہ جون کا وہ مہینہ ہے جس میں گرمی سے سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 23 جون کو، جب گرمی کی شدت اپنے عروج پر تھی، تقریباً 3 کروڑ 57 لاکھ افراد، جو اسپین کی مجموعی آبادی کا لگ بھگ 73 فیصد بنتے ہیں، صحت کے شدید خطرات سے دوچار رہے۔

اسپین کے قومی محکمہ موسمیات ایمیٹ (Aemet) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ ماہ جون ملک کی تاریخ کا دوسرا گرم ترین جون ثابت ہوا، جہاں اوسط درجہ حرارت معمول سے 3.2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 2026 کا پہلا نصف اسپین میں موسمی ریکارڈ کے آغاز سے اب تک کا گرم ترین دور رہا، جس کے دوران اوسط درجہ حرارت معمول سے 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔

یورپ بھر میں ریکارڈ توڑ گرمی

حالیہ شدید گرمی کی لہر نے یورپ کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جسے براعظم کی تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

فرانس، جرمنی اور دیگر کئی یورپی ممالک میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جبکہ متعدد مقامات پر گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس شدید گرمی کی لہر کے باعث یورپ بھر میں 1,300 سے زائد اضافی اموات ہو چکی ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

شدید گرمی نے جرمنی، پولینڈ، جمہوریہ چیک، سلوواکیہ اور ہنگری سمیت کئی یورپی ممالک میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کے ریکارڈ قائم کیے، جبکہ فرانس میں رات کے وقت بھی تاریخ کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کی رائے

ماہرین موسمیات کے مطابق یہ شدید گرمی صحارا کے صحرا سے شمال کی جانب بڑھنے والی گرم ہوا کے بڑے دباؤ کی وجہ سے پیدا ہوئی، جسے "افریقی اینٹی سائیکلون” کہا جاتا ہے۔

اس مضبوط فضائی دباؤ نے مغربی اور وسطی یورپ پر "ہیٹ ڈوم” (Heat Dome) تشکیل دیا، جس کے باعث گرم ہوا ایک ہی خطے میں محصور ہو گئی اور درجہ حرارت مسلسل کئی روز تک بڑھتا رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں رواں سال کی گرمی کی یہ ریکارڈ لہر معمول کے مقابلے میں چار ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ شدید ثابت ہوئی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post آبادی میں تیز رفتار اضافہ قومی ترقی کے لیے بڑا چیلنج، وسائل اور آبادی میں توازن ناگزیر ہے: وزیراعظم شہباز شریف
اسحاق ڈار Next post اعلیٰ تعلیم کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومت پُرعزم ہے، اسحاق ڈار