انڈونیشیا

انڈونیشیا کا عالمی مسلم سیاحتی منڈی میں بڑا حصہ حاصل کرنے کا عزم، مسلم دوست سیاحت کے فروغ پر توجہ

Read Time:2 Minute, 56 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے عالمی مسلم سیاحتی منڈی میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزارت سیاحت کے مطابق 2030 تک دنیا بھر میں مسلم سیاحوں کے سفروں کی تعداد 26 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کے پیش نظر ملک مسلم دوست سیاحتی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔

وزارت سیاحت کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور سیاحتی جدت کی ماہر مشیر مسرورہ نے بدھ کے روز جکارتہ میں منعقدہ اسلامی مالیاتی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں مسلم سیاحوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد انڈونیشیا کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ مسلم دوست سیاحت کے شعبے میں اپنی قیادت کو مستحکم کرے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم سیاح دیگر سیاحوں کی طرح معیاری سفری سہولیات کے خواہاں ہوتے ہیں، تاہم ان کے لیے سب سے اہم ضرورت ایسی سہولیات کی دستیابی ہے جو انہیں دورانِ سفر اپنی مذہبی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں آسانی فراہم کریں۔

مسرورہ کے مطابق مسلم دوست سیاحت کا تصور صرف حلال خوراک تک محدود نہیں بلکہ اس میں نقل و حمل، رہائش، معیاری صفائی ستھرائی، وضو اور نماز کی مناسب سہولیات سمیت پورا سیاحتی نظام شامل ہے تاکہ مسافر اپنے پورے سفر کے دوران باآسانی اپنی مذہبی عبادات انجام دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حلال سیاحت دراصل ایک مکمل طرزِ زندگی اور مربوط نظام کا نام ہے، جو سیاح کے گھر سے روانگی سے لے کر منزل تک قیام، واپسی اور اپنے تجربات دوسروں سے شیئر کرنے تک ہر مرحلے کا احاطہ کرتا ہے۔

مسرورہ نے کہا کہ انڈونیشیا مسلم دوست سیاحت میں عالمی رہنما بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ دنیا کی مجموعی مسلم آبادی کا 11.3 فیصد، ایشیا کی مسلم آبادی کا 17 فیصد اور آسیان (ASEAN) کی مسلم آبادی کا 86 فیصد انڈونیشیا میں آباد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کے 19 صوبوں میں 90 فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، جو مذہبی اقدار پر مبنی سیاحتی خدمات کے فروغ کے لیے مضبوط ثقافتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا اس وقت گلوبل مسلم ٹریول انڈیکس (GMTI) میں رسائی، مواصلات، ماحول اور خدمات کے اشاریوں کی بنیاد پر ملائیشیا کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔

مسرورہ کے مطابق عالمی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں نے بھی سیاحت کے رجحانات کو متاثر کیا ہے۔ ایشیا میں بین الاقوامی سیاحوں کی 61 کروڑ 60 لاکھ آمد میں تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ، یعنی 20 فیصد سے زائد مسلم سیاح شامل ہیں، جس سے یہ خطہ مسلم سیاحت کے لیے ایک اہم منڈی بن چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ سے فضائی روابط میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث آنے والی کمی کے پیش نظر وزارت سیاحت نے اپنی تشہیری حکمت عملی کا رخ قریبی علاقائی منڈیوں، خصوصاً ملائیشیا، سنگاپور اور مشرقی ایشیا کے ممالک کی جانب موڑ دیا ہے۔

تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کو داخلی سطح پر مسلم دوست سیاحتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزارت کی ترجیحات میں ہوٹلوں اور ریستورانوں کی حلال سرٹیفکیشن کے عمل کو تیز کرنا، عوامی صفائی کی سہولیات کو بہتر بنانا اور مسلم دوست سیاحت کے اصولوں سے متعلق عوامی آگاہی میں اضافہ شامل ہے۔

مسرورہ نے امید ظاہر کی کہ دنیا بھر سے آنے والے مسلم سیاح مستقبل میں بھی انڈونیشیا کا رخ کرتے رہیں گے اور ملک کے منفرد سیاحتی مقامات سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی ذمہ داریوں کو بھی آسانی سے ادا کر سکیں گے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
فرانس Previous post فرانس کے نئے سفیر کا العیون کا پہلا سرکاری دورہ، مراکش۔فرانس تعلقات اور علاقائی تعاون کے فروغ کے عزم کا اظہار
ترکمانستان Next post ترکمانستان اور قازقستان کا دوطرفہ تعاون مزید وسعت دینے پر اتفاق، 2027-2028 کے تعاون پروگرام پر دستخط