فرانس

فرانس کے نئے سفیر کا العیون کا پہلا سرکاری دورہ، مراکش۔فرانس تعلقات اور علاقائی تعاون کے فروغ کے عزم کا اظہار

Read Time:3 Minute, 43 Second

مراکش، یورپ ٹوڈے: فرانس کے نو تعینات سفیر برائے مراکش، فلپ لالیو، نے بدھ کے روز دارالحکومت رباط سے باہر اپنا پہلا سرکاری دورہ مراکش کے جنوبی صوبوں کے سب سے بڑے شہر العیون کا کیا، جسے مراکش اور فرانس کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے دوطرفہ تعلقات اور تعاون کی نئی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ دورہ سفیر کی جانب سے اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے فوراً بعد کیا گیا۔ انہوں نے 2 جون کو مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ کو اپنی سفارتی اسناد کی نقول پیش کی تھیں، جبکہ 4 جون کو شاہ محمد ششم کو اپنی سفارتی اسناد پیش کر کے باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

دورے کے دوران فرانسیسی سفیر نے العیون۔ساقیہ الحمراء ریجن کے والی عبدالسلام بیکرات اور العیون میونسپل کونسل کے صدر مولائے حمدی ولد الرشید سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں مقامی سطح پر تعاون کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع، ثقافت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مقامی حکام نے فرانسیسی وفد کو العیون میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وسیع پیمانے پر بنیادی ڈھانچے، ماحولیاتی تحفظ، ثقافتی منصوبوں اور سماجی خدمات میں سرمایہ کاری کے باعث شہر ایک جدید شہری اور معاشی مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔

سفیر فلپ لالیو نے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقاتیں مراکش اور فرانس کے درمیان دیرینہ دوستی کی عکاس ہیں۔ ان کے مطابق اس دورے سے علاقائی سطح پر ادارہ جاتی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے دوطرفہ تعلقات کے سیاسی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے مغربی صحارا کے مسئلے کے حل کے لیے مراکش کے خودمختاری منصوبے کی ایک بار پھر حمایت کا اعادہ کیا اور اسے "سنجیدہ، حقیقت پسندانہ اور سب سے زیادہ قابل اعتماد” بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2007 میں مراکش کی جانب سے یہ تجویز پیش کیے جانے کے بعد سے فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلسل اس مؤقف کی حمایت کرتا آ رہا ہے۔

سفیر نے کہا کہ ان کا یہ دورہ رباط اور پیرس کے درمیان مضبوط ہوتی تزویراتی شراکت داری کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک آئندہ اعلیٰ سطحی روابط اور ایک نئے فریم ورک معاہدے کے ذریعے تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔

انہوں نے مراکش کے جنوبی صوبوں کو یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک اہم تزویراتی سرمایہ کاری مرکز قرار دیتے ہوئے بنیادی ڈھانچے، قابل تجدید توانائی، بلیو اکانومی، فنی تربیت اور اعلیٰ تعلیم کو مستقبل کے تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔ انہوں نے فرانسیسی کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔

فلپ لالیو نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اقوام متحدہ کی قیادت میں جاری کوششیں مراکش کے خودمختاری منصوبے کی بنیاد پر ایک پائیدار سیاسی حل تک پہنچنے میں کامیاب ہوں گی۔ اس موقع پر علاقائی سلامتی، اقوام متحدہ کے مشن منورسو (MINURSO) کے مستقبل، جنگ بندی کے امکانات اور تندوف کیمپوں میں مقیم آبادی سے متعلق انسانی ہمدردی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

علاقائی حکام نے فرانسیسی سفیر کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مراکش اور فرانس کے درمیان تجدید شدہ شراکت داری کی مضبوط علامت قرار دیا۔ انہوں نے خطے کی بڑھتی ہوئی اقتصادی صلاحیت، افریقہ کے لیے مراکش کے دروازے کی حیثیت اور شاہ محمد ششم کی قیادت میں کیے گئے وسیع ترقیاتی منصوبوں کو اجاگر کیا۔

دورے کے موقع پر العیون میں الائنس فرانسیز (Alliance Française) کے ثقافتی مرکز کا بھی افتتاح کیا گیا، جس سے خطے میں فرانس کی تعلیمی اور ثقافتی موجودگی مزید مستحکم ہو گئی۔ سفیر لالیو نے کہا کہ یہ ادارہ اور شہر کا فرانسیسی بین الاقوامی اسکول اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک تعلیم، ثقافت اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری کو مشترکہ ترجیح دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ جولائی 2024 میں مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے بعد فرانس نے مراکش کے جنوبی صوبوں میں اپنی ادارہ جاتی موجودگی میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی (AFD) نے خطے میں 15 کروڑ یورو کی سرمایہ کاری کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جبکہ فرانس نے قونصلر خدمات میں توسیع اور کاروباری فورمز و سرمایہ کاری کے اقدامات کے ذریعے اقتصادی تعاون کو بھی فروغ دیا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
مون سون Previous post مون سون سے نمٹنے کے لیے قومی ہنگامی ردِعمل کا نظام قائم کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا کا عالمی مسلم سیاحتی منڈی میں بڑا حصہ حاصل کرنے کا عزم، مسلم دوست سیاحت کے فروغ پر توجہ