انڈونیشیا

ایران میں انڈونیشیا کے سفیر نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں انڈونیشیا کی نمائندگی کی

Read Time:1 Minute, 50 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران میں اپنے سفیر رولیانسیہ سومیرات کو سرکاری نمائندے کے طور پر مقرر کیا، جنہوں نے ہفتے کے روز تہران میں منعقدہ تعزیتی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ایوان میوینگ کانگ نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت نے انڈونیشیا کو آخری رسومات میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت دی تھی، جسے جکارتہ نے سراہا۔

انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے ایرانی حکام کو آگاہ کر دیا تھا کہ تہران میں تعینات انڈونیشیا کے سفیر رولیانسیہ سومیرات اس تقریب میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔

ترجمان کے مطابق ایران نے انڈونیشیا کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ سفیر سومیرات نے ہفتہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق تہران کے گرینڈ مصلیٰ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرحوم رہنما کے جسدِ خاکی پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور دعائے مغفرت کی۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے رفقا کے جسدِ خاکی کو جمعہ کی صبح گرینڈ مصلیٰ منتقل کیا گیا، جہاں دو روزہ عوامی الوداعی تقریب کے لیے انہیں مرکزی نماز گاہ میں رکھا گیا۔

اطلاعات کے مطابق تعزیتی تقریبات ہفتہ اور اتوار تک گرینڈ مصلیٰ میں جاری رہیں گی، جبکہ پیر کے روز تہران میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا۔ اس کے بعد قم، عراق کے مقدس شہروں بغداد، کربلا اور نجف میں بھی مذہبی رسومات ادا کی جائیں گی، جبکہ تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

تہران میں مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والی بین الاقوامی شخصیات میں عراق کے صدر نزار امیدی، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، آرمینیا کے وزیرِ اعظم نکول پاشینیان اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے خصوصی ایلچی اور روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف شامل تھے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف بھی پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچے، جس کی تصدیق وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کی گئی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان–ترکیہ ڈیجیٹل کوریڈور کے قیام کی تجویز، ترک سیل کو سرمایہ کاری کی دعوت
چینی Next post دوشنبے: چینی ثقافتی دن کے موقع پر وحدت شہر کی تین دہائیوں پر محیط سماجی، اقتصادی اور ثقافتی کامیابیاں پیش کی گئیں