انڈونیشیا

انڈونیشیا میں مینگرووز کی بحالی کے لیے "ماحولیاتی توبہ” مہم کا آغاز، ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر زور

Read Time:2 Minute, 36 Second

سمباوا، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیرِ ماحولیات محمد جمہور ہدایت نے ملک بھر میں مینگرووز کے جنگلات کی بحالی پر مبنی "ماحولیاتی توبہ” (Ecological Repentance) مہم کا آغاز کرتے ہوئے اسے تباہ حال ماحولیاتی نظام کی بحالی، ساحلی علاقوں کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے ایک اہم قومی اقدام قرار دیا ہے۔

منگل کو مغربی نوسا تنگارا کے علاقے سمباوا میں مینگرووز کے پودے لگانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ ماحولیات نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کی ذمہ داری صرف حکومت یا نجی اداروں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا، "ہر ایک کو ماحولیاتی توبہ کی ضرورت ہے، صرف حکومت اور کمپنیاں ہی نہیں بلکہ عوام بھی ماحول کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔”

وزارتِ ماحولیات کے مطابق 2026 سے 2028 تک جاری رہنے والی اس قومی مہم میں ماحولیاتی برداشت کی صلاحیت (Environmental Carrying Capacity) کو مستقبل کی ترقیاتی پالیسیوں کا بنیادی ستون بنایا گیا ہے۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی ترقی کو ماحولیاتی نقصان کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ پائیدار اور متوازن ترقی ہی طویل المدتی خوشحالی کی ضمانت ہے۔

وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق انڈونیشیا کے 34 لاکھ ہیکٹر پر مشتمل مینگرووز کے جنگلات میں سے تقریباً سات لاکھ ہیکٹر، یعنی لگ بھگ 30 فیصد رقبہ، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور صنعتی سرگرمیوں کے باعث متاثر ہو چکا ہے، جس کے پیشِ نظر حکومت نے ملک بھر میں بحالی کے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیرِ ماحولیات نے کہا کہ مینگرووز کے جنگلات کی بحالی نہ صرف ساحلی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنائے گی بلکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ مینگرووز عام درختوں کے مقابلے میں چار سے پانچ گنا زیادہ کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ اور بحالی کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

محمد جمہور ہدایت نے کہا کہ صحت مند مینگرووز کے جنگلات قدرتی حفاظتی ڈھانچے کے طور پر ساحلی علاقوں کو کٹاؤ، بلند سمندری لہروں اور سمندری پانی کی دراندازی سے محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ یہ آبی حیات کی افزائش کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتے ہوئے روایتی ماہی گیر برادریوں کے روزگار میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

قومی حکمتِ عملی کی کامیابی کے لیے وزارتِ ماحولیات نے صوبائی و مقامی حکومتوں، نجی شعبے اور مقامی آبادی پر زور دیا ہے کہ وہ ملک بھر میں مینگرووز کی بحالی کے منصوبوں میں بھرپور حصہ لیں۔

اس سلسلے میں وزیر نے کان کنی کی کمپنی فری پورٹ انڈونیشیا کی جانب سے ملک بھر میں تقریباً 12 ہزار ہیکٹر مینگرووز کی بحالی کے عزم کو سراہا، جس میں 10 ہزار ہیکٹر پاپوا اور مزید 2 ہزار ہیکٹر دیگر ساحلی علاقوں میں بحال کیے جائیں گے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ماحولیات کی بحالی کے ہر مثبت اقدام کا خیرمقدم کرے گی اور وسیع البنیاد تعاون کے ذریعے قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
گیلینیکا Previous post مراکشی دوا ساز کمپنی گیلینیکا کی روس کو ادویات کی پہلی برآمد، یوریشین اقتصادی یونین کی منڈی تک رسائی حاصل
رحمان Next post صدر امام علی رحمان نے دیواشتیچ میں جدید مرکزی اسپتال کا افتتاح کر دیا، صحت کے شعبے کی ترقی کے عزم کا اعادہ