
بیرون ملک سے آنے والی تمام ترسیلات زر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت: وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منگل کے روز متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک سے پاکستان آنے والی تمام ترسیلات زر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے منتقل کرنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ، شفافیت اور پائیدار اقتصادی ترقی کے حکومتی وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور کیش لیس معیشت کے فروغ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مزید وسعت دینے میں فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اپنی اقتصادی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران بیرون ملک سے موصول ہونے والی 92 فیصد ترسیلات زر ڈیجیٹل ذرائع سے پاکستان منتقل کی گئیں۔ اسی عرصے میں ملک میں 11.9 ارب ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ کیے گئے، جبکہ موبائل بینکنگ ایپلی کیشنز استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ ہو گئی۔
وزیراعظم نے موبائل بینکنگ صارفین میں نمایاں اضافے کو ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ بیرون ملک سے آنے والی تمام ترسیلات زر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت منتقل کیا جائے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے کیو آر (QR) کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے تاجروں کی تعداد میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوام میں کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے آگاہی مہم مزید تیز کی جائے۔
بریفنگ کے مطابق جون 2025 سے جون 2026 کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے تاجروں کی تعداد بڑھ کر 20 لاکھ 3 ہزار تک پہنچ گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نادرا کی 99 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل ہو چکی ہیں، جبکہ نقد ادائیگیوں کا تناسب 71 فیصد سے کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ گیا ہے۔
وزیراعظم نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کرنے کے اقدام کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے مالی معاونت کی تقسیم مزید شفاف، تیز رفتار اور مستحقین کے لیے آسان ہو گئی ہے۔
حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ بی آئی ایس پی کے ایک کروڑ مستحقین کو اب تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق کیش لیس معیشت کے منصوبے کا ایک آزادانہ تھرڈ پارٹی جائزہ جاری ہے، جس کی حتمی رپورٹ اور سفارشات نومبر 2026 میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے اپنے رکن بینکوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، بالخصوص راست (Raast) فوری ادائیگی نظام کے ذریعے لین دین بڑھانے کے اہداف بھی مقرر کر دیے ہیں۔