
پاکستان کو جدت، تحقیق اور خود انحصاری کے ذریعے ٹیکنالوجی کی عالمی قیادت کی جانب لے جانا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز ملک میں مقامی علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں، جامعات، تحقیق و ترقی کے مراکز، صنعتوں، اسٹارٹ اپس اور کسانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک متحدہ قومی جدت طرازی (نیشنل انوویشن ایکو سسٹم) کا حصہ بنیں تاکہ پاکستان اپنی ٹیکنالوجی اور علمی صلاحیتوں کو مقامی سطح پر ترقی دے سکے۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں "انڈس آر اے ایس – روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو 2026” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو جاری تکنیکی انقلاب سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا، تاہم اس امر کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ جامعات، تحقیقاتی مراکز، اسٹارٹ اپس، صنعتوں اور زرعی شعبے کو ایک قومی جدت طرازی کے نظام میں یکجا کیا جائے تاکہ ان ٹیکنالوجیز کے پیچھے موجود علم مقامی طور پر تیار ہو، پاکستان کی ملکیت ہو اور مسلسل ترقی کرتا رہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ روبوٹکس اور خودکار نظاموں کا انقلاب صرف ترقی یافتہ ممالک، بڑی کمپنیوں یا بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پاکستان اور عالمی جنوب میں کسانوں، چھوٹے کاروباروں، خواتین کاروباری شخصیات، نوجوان موجدوں اور پسماندہ طبقات کی زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی غیرمعمولی ترقی کے ساتھ حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں، اس لیے واضح قانونی، ضابطہ جاتی اور اخلاقی فریم ورک تشکیل دینا ناگزیر ہے تاکہ خودکار نظام محفوظ، شفاف اور انسانیت کے مفاد میں استعمال ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت جدت طرازی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ نئی ٹیکنالوجیز کو ذمہ دارانہ، محفوظ اور جامع انداز میں بروئے کار لا کر قومی ترقی کو پائیدار بنایا جائے۔
تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، غیر ملکی مندوبین، مختلف کمپنیوں اور برانڈز کے نمائندوں سمیت طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے دو اہم حکومتی منصوبوں کا اعلان بھی کیا، جن میں "اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام” شامل ہے، جس کا مقصد پاکستان کی تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز، بین الاقوامی سطح پر مسابقتی اداروں اور اعلیٰ پیداواری روزگار میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 20 ملین امریکی ڈالر مختص کیے جائیں گے تاکہ ملکی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں روبوٹس اور خودکار مشینوں کا مستقبل صرف ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں بلکہ 25 کروڑ باہمت پاکستانیوں کے عزم، جدوجہد، خود انحصاری اور بہتر مستقبل کی تعمیر کی داستان ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتیں اور تجسس ملک کے روشن مستقبل کی بنیاد بنیں گے اور انہی کی بدولت پاکستان جدید دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک تاریخی موقع کے دہانے پر کھڑا ہے اور قوم اس موقع کو ہرگز ضائع نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دوسروں کے فیصلوں کا صرف پیروکار نہیں بنے گا بلکہ جدت، صنعت، خود انحصاری اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنی تقدیر خود رقم کرے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلسل محنت، قربانی اور عزم کے ذریعے ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان تعمیر کیا جائے گا جس پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔
وزیراعظم نے انڈس آر اے ایس ایکسپو کو ایک تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اکیسویں صدی کی فیصلہ کن ٹیکنالوجیز میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ رواں سال پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی میزبانی کی، جس میں حکومتوں، ٹیکنالوجی رہنماؤں، محققین اور کاروباری شخصیات نے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے مستقبل پر غور کیا، جبکہ روبوٹکس ایکسپو اس وژن کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں مشینیں صرف حساب نہیں کرتیں بلکہ دیکھنے، فیصلہ کرنے اور فوری عمل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی نے زراعت، قدرتی آفات سے نمٹنے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دفاع اور قومی سلامتی کے شعبے میں مقامی خودکار ٹیکنالوجیز کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی متحرک قیادت میں مسلح افواج نے جدید ترین ٹیکنالوجی اختیار کی ہے اور نمائش میں پیش کیے گئے مکمل طور پر پاکستان میں تیار کردہ سمیولیٹرز اور 60 فیصد سے زائد مقامی سطح پر تیار کیے گئے ڈرونز اس کا واضح ثبوت ہیں۔
وزیراعظم نے وزارت آئی ٹی، ملکی ماہرین، انجینئرز، پیشہ ور افراد اور ٹیکنوکریٹس کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے قومی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
انہوں نے گزشتہ سال کے "معرکۂ حق” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کے تعاون سے جدید خودکار نظاموں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے ملکی سرحدوں اور سائبر محاذ کا کامیابی سے دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کامیابیوں نے ثابت کیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی خودمختاری کے دفاع کا غیرمتزلزل عزم رکھتا ہے بلکہ جدید خودکار دفاعی ٹیکنالوجی تیار کرنے اور اسے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی مقامی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جو مستقبل میں قومی دفاع کو مزید مضبوط بنائے گی۔
اس سے قبل وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو ممالک نئی ٹیکنالوجیز میں قیادت حاصل کریں گے وہی مستقبل کی عالمی معیشت کی سمت متعین کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی مکمل ویلیو چین تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے کیونکہ جدید ٹیکنالوجی میں خود انحصاری قومی فیصلہ بن چکی ہے۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن پر عمل پیرا ہے، جہاں ٹیکنالوجی صرف معیشت کا ایک جزو نہیں بلکہ پیداوار، روزگار اور قومی مسابقت کا بنیادی محرک بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق رواں سال پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات میں تقریباً 21 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ملک ای گورننس ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 14 درجے اور آئی ٹی یو کے آئی سی ٹی ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 27 درجے بہتری حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔