غوث بہاؤالدین ابو محمد زکریاؒ

حضرت غوث بہاؤالدین ابو محمد زکریاؒ ۔۔ چراغِ معرفت وروحانیت

Read Time:5 Minute, 41 Second

برصغیر پاک وہند میں دین ِاسلام کی ترویج واشاعت میں صوفیائے کرامؒ اور مشائخِ عظامؒ نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا ایک روشن وتابناک باب ہے۔ ان سینکڑوں بزرگانؒ نے حق و صداقت کے راستے پر قائم اور اس پر عمل پیرا ہوکر اپنے سرکارکریم صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وسلم کی اس امانت کو نہایت احسن طریقے سے اپنے اپنے عہد کی نسل تک منتقل کرکے اپنی اس ذمہ داری کو پورا کیا جو سرورکائنات صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وسلم نے اپنے آخری خطبے میں وہاں موجود صحابہ کرام ؓ اور ان کے بعد آنے والی نسلوں کے سپردکی تھی۔ انہی پاک و باصفا نفوس میں سے ایک باکمال و باجمال ہستی شیخ الاسلام حضرت بہاؤالدینؒ ابو محمد زکریا ہیں جو نسب کے اعتبار سے والدگرامی کی طرف سے ہاشمی جبکہ والدہ کی طرف سے حسنی ہیں، جنہوں نے ملتان کی سرزمین کو اسلام کے نور سے منور کیا اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ راست پر گامزن فرمایا۔ آپ ؒ کے آباؤاجداد اموی دور حکومت میں نامساعد حالات کی بناء پر مکہ مکرمہ سے خورارزم کی طرف ہجرت کر گئے جہاں ان کی بے پناہ قدرومنزلت کی گئی اور انہی میں سے ایک بزرگ سلطان شاہ حسین غزنوی لشکر کے ساتھ تبلیغ دین کے لیے برصغیر میں تشریف لائے اور ملتان کے قریب دیپال گڑھ جو اب کروڑ لعل عیسن کے نام سے مشہور ہے، میں مقیم ہوکر دین اسلام کی ترویج وترقی میں مشغول ہوگئے۔ اسی خاندان کی ایک بہت ہی باکمال وباصفا ہستی مخدوم ابی بکر سید کمال الدین ؒ کے ہاں دو صاحزادے شیخ وجیہہ الدین محمد غوث ؒ اور شیخ وحیدالدین احمد غوثؒ تولد ہوئے اور سید محمد غوثؒ کے ہاں حضرت بہاؤالدین زکریا ؒ اور سید احمد غوثؒ کے ہاں مخدوم عبدالرشیدحقانی ؒ جیسی عظیم المرتبت ہستیوں نے جنم لیا جو آسمانِ ولایت اورافقِ معرفت وطریقت پر روشن وتابندہ ستارے بن کر چمکے اور ایک عالم کو اپنے نورعرفان وبصیرت سے منور کیا۔ حضرت بہاؤالدین زکریاؒ مادرزاد ولی تھے اوربچپن سے ہی ان کے اوصاف حمیدہ ہویدا ہونے شروع ہوگئے اور صرف سات سال کی عمر میں قرآن کریم کو معہ ہفت قرأت حفظ کرلیا۔ اپنے وقت کے نامور علمائے کرام ؒ سے اکتساب فیض کرنے کے بعد آپ ؒ نے علم وفضل کے مرکز خراسان کارخ کیا، جہاں سے علوم ظاہری وباطنی کے حصول کے بعد آپؒ بخارا تشریف لے گئے جہاں باکمال علمائے کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرکے سند فضیلت حاصل کی۔ اس کے بعدآپؒ تزکیہ نفس اور روحانی بالیدگی کے لیے مجاہدہ اور ریاضت کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ زمانہ آپ ؒ کے لیے سخت اضطراب کا زمانہ تھاجس میں آپؒ سالہاسال تک اپنے مرشد کی تلاش میں سرگرداں رہے اور یہی جستجو آپ ؒ کو کشاں کشاں شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردیؒ کے در پر لے گئی جنہوں نے آپ ؒ کے اندر کی تڑپ کو دیکھتے ہوئے اپنی توجہ اور کرم سے چند لمحوں میں برسوں کا سفر طے کروا کر اور تمام حجابات کو ہٹا کر وہ جلوہ عطا فرما دیا جو سالہاسال کی عبادت وریاضت کے بعد بھی ہرکسی کو نصیب ہونا قسمت کی بات ہوتی ہے۔ قبولیت کے ان لمحات میں حضرت شیخ الشیوخ ؒ اپنے مریدِباصفا پر اتنے مہربان ہوئے کہ اپنے مشائخ کے توسط سے عطا ہونے والا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا خرقہ مبارک اور اپنا مصلیٰ، جس پر آپؒ نے ساری عمر عبادت و ریاضت کی تھی، بھی آپؒ کو عنایت فرما کر دنیاوجہاں کی نعمتوں سے مالامال کر دیا اورصرف سترہ دنوں میں ہی آپؒ کو اپنی خلافت جیسے عظیم منصب پر بھی فائز فرمادیا۔ علم و حکمت اور معرفت وحقیقت کے خزانے سمیٹے اپنے مرشدکریمؒ کے روشن و تابناک سلسلہ طریقت سہروردیہ کے نقیب کے طور پر آپ ؒ نے اپنے وطن واپس آکر کفر و شرک میں رچے بسے معاشرے میں توحید کی شمع روشن کی اور عوام الناس کے قلب واذہان کو اللہ اور رسول کریمؐ کی محبت سے معمور کیا۔ آپؒ نے ملتان کے علاقے میں جہالت سے بھرپور معاشرے کو راہ راست پر لانے کے لیے ایک تبلیغی نظام کی داغ بیل ڈالی جہاں سے کفر وشرک میں مبتلا لوگوں کو ہدایت کے نور سے بہرہ مند کیا۔ حضرت شیخ بہاؤالدین زکریا ؒ ایک روحانی پیشوا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مبلغ و معلم اور ایک اعلیٰ پائے کے منتظم و مصلح بھی تھے جنہوں نے عوام الناس کی نہ صرف علمی و روحانی بلکہ اعلیٰ اخلاقیات پر مبنی بلند کردارسازی بھی کی۔ آپؒ نے علماء کے ساتھ ساتھ سائنسی بنیادوں پر تربیت کرکے مبلغین کی بھی ایک جماعت تیار کی جنہیں مختلف علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کے لیے موجودہ انڈونیشیاکے شہروں جاوا، سماٹرا، فلپائین اور چین کے علاقوں تک تاجروں کے روپ میں بھیجا تاکہ وہ تبلیغ کے ساتھ ساتھ خالص اسلامی احکامات کی روشنی میں تجارت کرکے اپنے لیے معاش کا بھی انتظام کرسکیں اور انہیں اپنی ضروریات کے لیے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی حاجت نہ ہو۔ آپؒ نے اپنی دوراندیشی سے ان مبلغین کو فنِ حرب سے بھی روشناس کروایا تاکہ دوران سفر وہ اپنی اور اپنے سامانِ تجارت کی حفاظت بھی بخوبی کرسکیں۔ حضرت شیخؒ کی اس حکمت اور تربیت سے وہاں کے لوگ ان مبلغین کی دینداری، حسن ِ اخلاق، دیانتداری، معاملات کی شفافیت سے متأثر ہوکر حلقہ بگوش ِاسلام ہوگئے اور آج مشرقِ بعید میں موجود کروڑوں مسلمان انہی مبلغین کی سعی جمیلہ کے مرہون ِ منت ہیں۔ آپؒ کو اپنے مرشدکریمؒ کی دعا سے ہی دین ودنیا میں سرفرازی عطا ہوئی اورآپؒ کو اپنے آبائے کرام ؒ سے بہت سی دولت بھی نصیب ہوئی جنہیں آپؒ نے دین اسلام کی ترویج وترقی، معاشی و معاشرتی طور پر پسے ہوئے طبقات کی دادرسی، مسافروں کے لیے سرائیں، خانقاہ اور مدارس کی ضروریات اور طلباء کی معاشی کفالت پر فراخدلی سے خرچ کیا۔ آپؒ اپنے عہد کے علم وحکمت سے سرفراز بہت بڑے عابد، زاہد اور مسندارشاد پر متمکن ایسی شخصیت تھے کہ جن کی خدمت میں اپنے وقت کے تمام علماء و مشائخ بالالتزام سلوک ومعرفت کی منازل طے کرنے کے لیے ہر لمحے موجود رہتے اور آپ ؒ ان کے وقائق ومسائل کو حل کرنے میں بھی راہنمائی فرماتے۔ آپؒ کے فیوض وبرکات کے بہتے دریا سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں غیرمسلم بھی ہدایت کی نعمت سے مستفید ہوئے۔ آپؒ علم وفضل اور حکمت ومعرفت کے بلنددرجات پرمتمکن ہونے کے ساتھ ساتھ عجزوانکساری، تحمل وبردباری، سخاوت ومہمان نوازی جیسی اعلیٰ اخلاقی روایات کے امین بھی تھے۔ آسمان ولایت پر 84 سال حکمرانی کرنے اور ایک عالم کو رشد وہدایت سے بہرہ مند کرنے کے بعد آپؒ 7 صفر666ھ بمطابق21 دسمبر1267ء کو اس عالم فانی کو خیرباد کہہ کے عالم بقاء کی طرف روانہ ہو گئے لیکن تقریباً 800سال گزرنے کے باوجود آج بھی آپؒ کا روحانی دریائے کرم اسی طرح رواں دواں اور تشنگانِ علم وعرفان اور مسافران راہ حقیقت کے لیے فیضان جاری ہے اور رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔
؎ ہرگزنہ میرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق!!!
ثبت است برجریدہئ عالم دوام ما
(حافظ شیرازی)

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
زرداری Previous post صدر آصف علی زرداری کی مون سون کے دوران ہنگامی تیاریوں اور امدادی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت
لوک ورثہ میں ’’لیٹ فریڈم رنگ‘‘ نمائش کا افتتاح، پاکستان اور امریکہ کے درمیان ثقافتی شراکت داری مزید مستحکم Next post لوک ورثہ میں ’’لیٹ فریڈم رنگ‘‘ نمائش کا افتتاح، پاکستان اور امریکہ کے درمیان ثقافتی شراکت داری مزید مستحکم