
قائداعظم اور پاکستان: ایک خواب، ایک قیادت، ایک تاریخ
گزشتہ سال 10 ستمبر کو میں اور میرا بیٹا قائداعظم محمد علی جناحؒ کے بارے میں ایک بے تکلف اور طویل گفتگو میں مصروف تھے۔ بات ایک موضوع سے دوسرے موضوع کی طرف بڑھتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے تاریخ کے بے شمار صفحات ہمارے سامنے کھلتے چلے گئے۔ ہم قائداعظم کے سفر کو ایک کامیاب بیرسٹر محمد علی جناح سے برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے عظیم اور محبوب قائد بننے تک قدم بہ قدم دیکھ رہے تھے۔
داستان ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، کیونکہ یہ کسی عام شخصیت کی داستان نہیں تھی۔ یہ اس نابغۂ روزگار انسان کی کہانی تھی جس نے نہ صرف جنوبی ایشیا کی تاریخ کا دھارا بدلا بلکہ مسلم تاریخ کے ایک نئے باب کی بنیاد بھی رکھی۔ ایک ایسے عظیم انسان کی داستان جس نے اپنی غیر معمولی سیاسی بصیرت، اصول پسندی، عزم اور بے مثال قیادت کے ذریعے دنیا کے نقشے پر ایک نئے ملک، اسلامی جمہوریہ پاکستان، کے قیام کو ممکن بنایا۔
ہم اس تاریخی سفر میں مکمل طور پر کھو چکے تھے۔ کبھی ہماری نگاہوں کے سامنے قائداعظم کی سیاسی جدوجہد کے مناظر آتے، کبھی مسلمانوں کے اجتماعات، کبھی قراردادِ لاہور اور کبھی وہ تاریخی لمحہ جب برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کے خواب کو ایک واضح سیاسی مطالبے میں تبدیل کردیا۔
سبز و سفید پرچم اور چاند ستارے کے ساتھ ہم تاریخ کے اس سفر پر آگے بڑھتے رہے۔ مناظر بدلتے رہے، واقعات ایک دوسرے سے جڑتے رہے، یہاں تک کہ اچانک میرے بیٹے نے ایسا سوال کر دیا جس کے لیے شاید تاریخ کا کوئی طالب علم بھی مکمل طور پر تیار نہ ہو۔
وہ قائداعظم کے ساتھ ساتھ، جیسے ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم اٹھائے، تاریخ کے سفر میں آگے بڑھ رہا تھا۔ اچانک اس نے پوچھا:
"ابو جی! آپ کا کیا خیال ہے، اگر قائداعظم 1947ء کے آغاز ہی میں وفات پا جاتے تو کیا پاکستان کا قیام ممکن تھا؟”
سوال سادہ تھا، مگر اس کے اندر تاریخ کا ایک پورا طوفان پوشیدہ تھا۔
ایک لمحے کے لیے میرے سامنے ایک مختلف تاریخ کا منظر ابھرا۔
قائداعظم کی بیماری کی تشخیص ہوتی ہے۔ ڈاکٹر انہیں ان کی زندگی کے چراغ کے بتدریج بجھنے کی روح فرسا خبر دیتا ہے۔ قائداعظم جانتے ہیں کہ ان کی بیماری کی خبر اگر مسلمانوں تک، یا برطانوی حکمرانوں اور کانگریس کی قیادت تک پہنچ گئی تو تحریک پاکستان کی کامیابی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
وہ ڈاکٹر سے کہتے ہیں:
"ڈاکٹر! تمہیں اپنے مقدس پیشے کی قسم، یہ راز تمہارے، میرے اور فاطمہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ پاکستان کا قیام ناممکن ہوجائے گا۔”
یہ منظر محض ایک تصور نہیں بلکہ قائداعظم کی غیر معمولی سیاسی بصیرت اور اپنے مقصد کے لیے ان کی بے مثال قربانی کی علامت بن جاتا ہے۔
میں نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔ آواز میں نمی تھی اور آنکھوں میں ایک ایسے سوال کا بوجھ جس کا جواب محض چند الفاظ میں دینا ممکن نہیں تھا۔
میں نے کہا:
"اگر قائداعظم پاکستان کے قیام سے صرف ایک دن پہلے بھی وفات پا جاتے تو پاکستان کا قیام شاید ناممکن نہ ہوتا، لیکن یقیناً مشکل ترین ہوجاتا۔”
کیونکہ قائداعظم جیسا دلربا، بااصول، باوقار اور محبوب رہنما مسلمانانِ ہند کے پاس دوسرا کوئی نہیں تھا۔
یہ صرف ایک سیاسی قیادت نہیں تھی۔ یہ اعتماد کا وہ رشتہ تھا جو قائداعظم اور برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان قائم ہوچکا تھا۔ خیبر سے لے کر راس کماری تک مسلمان ان کی بصیرت، قیادت اور سیاسی حکمت عملی پر غیر معمولی اعتماد رکھتے تھے۔ ان کے ایک اشارے پر لاکھوں لوگ اپنی صفیں درست کرلیتے تھے، ان کے ایک مطالبے پر مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہوجاتے تھے اور ان کی ایک آواز پورے برصغیر میں گونج اٹھتی تھی۔
قائداعظم نے مسلمانوں کو محض ایک سیاسی جماعت کے پرچم تلے جمع نہیں کیا تھا؛ انہوں نے انہیں ایک سیاسی قوم ہونے کا شعور دیا تھا۔
یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔
ان کی قیادت میں مسلمانانِ ہند نے یہ محسوس کیا کہ وہ محض ایک مذہبی اقلیت نہیں بلکہ اپنی جداگانہ تہذیب، تاریخ، ثقافت، سیاسی مفادات اور اجتماعی شناخت رکھنے والی ایک قوم ہیں۔
پاکستان کا قیام اسی اجتماعی شعور کی عملی تعبیر تھا۔
قائداعظم کی سب سے بڑی طاقت شاید ان کا عہدہ نہیں، بلکہ ان کی شخصیت تھی۔ وہ برطانوی حکومت کے سامنے بھی دلیل کے ساتھ کھڑے ہوئے اور کانگریس کی اکثریتی سیاست کے سامنے بھی اپنے اصولوں سے پیچھے نہ ہٹے۔ انہوں نے جذباتی نعروں کے بجائے آئینی جدوجہد، سیاسی حکمت عملی اور غیر معمولی استقامت کو اپنا ہتھیار بنایا۔
اسی لیے ان کی زندگی کا آخری دور بھی ایک عجیب عزم کی داستان ہے۔
ایک طرف بیماری ان کے جسم کو کمزور کر رہی تھی، دوسری طرف پاکستان کی منزل قریب آتی جارہی تھی۔ جسم کمزور تھا مگر ارادہ فولاد سے زیادہ مضبوط۔ زندگی کا چراغ مدھم ہورہا تھا مگر قوم کے لیے آزادی کا سورج طلوع ہونے والا تھا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ایک گہرا سوال ہمارے سامنے رکھتی ہے:
اگر قائداعظم نہ ہوتے تو کیا پاکستان پھر بھی وجود میں آتا؟
اس سوال کا قطعی جواب تاریخ نہیں دے سکتی، کیونکہ تاریخ صرف واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ امکانات کا بھی ایک پیچیدہ سلسلہ ہے۔ تاہم اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ قائداعظم کے بغیر تحریک پاکستان کی رفتار، سمت اور کامیابی کا امکان یکسر مختلف ہوتا۔
ممکن ہے کوئی اور قیادت ابھرتی، ممکن ہے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد جاری رہتی، مگر قائداعظم جیسی شخصیت—جو بیک وقت آئینی ماہر، غیر معمولی سیاست دان، بے مثال منتظم اور کروڑوں مسلمانوں کے متفقہ رہنما ہو—کا متبادل تلاش کرنا آسان نہ تھا۔
اسی لیے قائداعظم کا پاکستان کے قیام میں کردار محض ایک تاریخی شخصیت کا کردار نہیں تھا۔ وہ اس عظیم سیاسی جدوجہد کے مرکز تھے جس نے ایک ناممکن دکھائی دینے والے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔
پاکستان کا قیام کسی ایک دن کا واقعہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے برسوں کی سیاسی جدوجہد، قربانیاں، ہجرتیں، آنسو، دعائیں اور بے شمار لوگوں کی محنت شامل تھی۔ لیکن اس پورے سفر کو منزل تک پہنچانے والی قیادت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تھی۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب ہم 14 اگست 1947ء کو یاد کرتے ہیں تو ہماری نگاہ سب سے پہلے اسی شخصیت کی طرف اٹھتی ہے جس نے اس خواب کو سیاسی حقیقت میں تبدیل کیا۔
تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے میرے لیے قائداعظم کا تصور ہمیشہ اسی منظر سے جڑا رہے گا: ایک کمزور جسم، مگر غیر متزلزل عزم؛ ایک بیمار انسان، مگر کروڑوں انسانوں کے مستقبل کا محافظ؛ ایک تنہا شخص، مگر ایک پوری قوم کے اعتماد کا مرکز۔
شاید قدرت نے انہیں اسی مقصد کے لیے چنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو ایک ایسا وطن مل سکے جہاں وہ اپنی شناخت، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
قائداعظم نے پاکستان بنایا۔
لیکن پاکستان کی تعمیر کا سفر آج بھی جاری ہے۔
یہ ذمہ داری اب ہماری ہے کہ جس وطن کے لیے قائداعظم نے اپنی صحت، آرام اور زندگی تک قربان کردی، ہم اسے مضبوط، خوشحال، پرامن، باوقار اور انصاف پر مبنی ریاست بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
کیونکہ قائداعظم کی داستان صرف ماضی کی داستان نہیں۔
یہ ہمارے حال کا سوال اور ہمارے مستقبل کی ذمہ داری بھی ہے۔