
بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان کی شدید مذمت، مسئلہ کشمیر پر حقائق مسخ کرنے کا الزام
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے پیر کے روز بھارت کے وزیر دفاع کی جانب سے جموں و کشمیر تنازع سے متعلق دیے گئے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "انتہائی اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ ایسے بیانات نہ صرف بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقائق کو مسخ کرتے ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کے ریمارکس اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ جموں و کشمیر تنازع سے متعلق حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں، حالانکہ یہ مسئلہ اب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان نہ صرف مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے بلکہ یہ بھارتی حکومت کی اس دانستہ پالیسی کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی بیان کا مقصد عالمی توجہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے) میں جاری اقدامات، علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات اور بھارت کو درپیش داخلی چیلنجز سے ہٹانا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت کو پاکستان کے عزم اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے اس ضمن میں پاکستان کی دفاعی تیاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے آپریشن بنیان المرصوص کو پاکستان کے پختہ عزم کی مثال قرار دیا۔
پاکستان نے بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، پر زور دیا کہ وہ بھارت کے مسلسل طرزِ عمل کا نوٹس لے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، جن کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کو حقِ خودارادیت حاصل ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر تنازع کا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔