
ویتنام کے صدر ٹو لام کی کینیڈین کاروباری اداروں اور ہوا بازی کے شعبے کے نمائندوں سے ملاقاتیں
اوٹاوا، یورپ ٹوڈے: کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر ٹو لام نے کینیڈا کے سرکاری دورے کے دوران 25 ستمبر کو کینیڈین کاروباری اداروں، کارپوریشنز اور ہوا بازی کے شعبے کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، جن میں جوہری توانائی، ہوا بازی، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ٹو لام نے انجینئرنگ اور بنیادی ڈھانچے کی کمپنی AtkinsRéalis کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایان ایل ایڈورڈز سے ملاقات میں کمپنی کی انجینئرنگ، منصوبہ بندی، پراجیکٹ مینجمنٹ اور جوہری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں صلاحیتوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ویتنام نے جوہری توانائی کے شعبے میں جامع تعاون سے متعلق AtkinsRéalis کی تجویز کا جائزہ لیا ہے اور وہ ایسے شراکت داروں کی تلاش میں ہے جو ملک کے جوہری توانائی کے پروگرام میں طویل مدتی بنیادوں پر تعاون کر سکیں۔
صدر ٹو لام نے واضح کیا کہ جوہری توانائی کے معاملے میں تحفظ و سلامتی ویتنام کا اولین اور ناقابلِ سمجھوتہ اصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور شراکت داروں کے انتخاب کا فیصلہ ٹیکنالوجی کی پختگی، حفاظتی معیار، معاشی افادیت، مالیاتی صلاحیت، منصوبے کے نفاذ کے شیڈول، ٹیکنالوجی کی منتقلی، انسانی وسائل کی ترقی اور ویتنام کے طویل مدتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط اور غیر جانب دارانہ انداز میں کیا جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی محفوظ، پختہ اور عملی طور پر قابلِ نفاذ ہونی چاہیے، جبکہ اس کے ساتھ قابلِ عمل مالیاتی اور نفاذ کا ماڈل بھی موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا مقصد ویتنام میں طویل مدتی جوہری صلاحیتوں کی تعمیر میں بھی معاونت کرنا ہونا چاہیے۔
صدر ٹو لام نے ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سطح پر صلاحیتوں کے فروغ اور انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق AtkinsRéalis کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کمپنی سے کہا کہ وہ آئندہ 10 سے 20 برس کے دوران منتقل کی جانے والی صلاحیتوں، ویتنامی کاروباری اداروں کی ممکنہ شمولیت اور جوہری ویلیو چین کے ان مراحل کی مزید وضاحت کرے جنہیں ویتنام بتدریج اپنے اختیار میں لے سکتا ہے۔
اس موقع پر ایان ایل ایڈورڈز نے کمپنی کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ AtkinsRéalis کی ترقیاتی حکمت عملی پائیدار بنیادی ڈھانچے، صاف توانائی، جدید جوہری ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل حل اور عالمی سطح پر منصوبوں کی تکمیل کی صلاحیتوں پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی ویتنام میں انجینئرنگ خدمات، جوہری ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، توانائی، ٹرانسپورٹ، ماحولیاتی خدمات، پراجیکٹ مینجمنٹ اور مشاورتی شعبوں میں مواقع میں دلچسپی رکھتی ہے، جبکہ موجودہ تجویز کا مرکز جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون ہے۔
ہوا بازی کی تربیت اور سمولیشن میں تعاون
صدر ٹو لام نے ٹیکنالوجی کمپنی CAE کے سول ایوی ایشن کے صدر الیگزینڈر پریووسٹ سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے ویتنام کے ہوا بازی کے شعبے کے ساتھ CAE کے طویل عرصے سے جاری تعاون، بالخصوص پائلٹ تربیت اور فلائٹ سمولیشن کے شعبوں میں خدمات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ تعاون کی بنیاد دونوں فریقوں کو مزید وسیع اہداف کے حصول کے قابل بناتی ہے۔ ویتنام چاہتا ہے کہ CAE کے تعاون سے ہوا بازی کی تربیت، سمولیشن اور سلامتی کے شعبوں میں بین الاقوامی معیار کی صلاحیتیں تیار کی جائیں، جو مستقبل میں علاقائی منڈیوں کی ضروریات بھی پوری کر سکیں۔
صدر ٹو لام نے کہا کہ ویتنام کا ہوا بازی کا شعبہ طیاروں کے بیڑے، ہوائی اڈوں اور خدمات کی طلب کے اعتبار سے مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے، جس کے لیے انسانی وسائل، تربیتی استعداد اور حفاظتی صلاحیتوں کو ترقی کی رفتار سے ہم آہنگ رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ CAE پہلے ہی ویتنام میں سہولیات اور شراکت دار رکھتی ہے، اس لیے اب انفرادی ایئرلائنز، آلات اور تربیتی کورسز پر مبنی تعاون کو وسیع تر پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
صدر ٹو لام نے امید ظاہر کی کہ CAE ویتنام کو جنوب مشرقی ایشیا میں اپنے اہم تربیتی اور سمولیشن مراکز میں شامل کرنے پر غور کرے گی، جہاں ویتنامی ایئرلائنز کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک سے بھی تربیت حاصل کرنے والے افراد اور صارفین کو خدمات فراہم کی جا سکیں۔
الیگزینڈر پریووسٹ نے ہوا بازی کی تربیت اور سمولیشن کے شعبے میں کینیڈا کی صلاحیتوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ CAE کئی ویتنامی کاروباری اداروں کے ساتھ تجارتی تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ CAE ویتنام میں پائلٹس، کیبن کریو، مینٹیننس ٹیکنیشنز اور ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی تربیت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، سمولیشن، ڈیجیٹل لرننگ اور ہوا بازی کی سلامتی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
صدر ٹو لام نے CAE سے ویتنامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ملک میں تربیتی صلاحیت میں توسیع کے لیے روڈ میپ تیار کرنے اور ٹیکنالوجی میں ویتنام کی بتدریج خودکفالت میں مدد دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی تربیت، سمولیشن، خطرات کے انتظام اور آپریشنل سیفٹی کے شعبوں میں مہارت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس تعاون کا حتمی مقصد ویتنام کے پورے ہوا بازی نظام کی مجموعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
ICAO کے ساتھ ہوا بازی کے شعبے میں تعاون پر زور
صدر ٹو لام نے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کونسل کے صدر توشیوکی اونُما سے بھی ملاقات کی اور عالمی شہری ہوا بازی کے شعبے کی رہنمائی، چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار ہوا بازی کے معیارات کے نظام کی تشکیل میں ICAO کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ویتنام ICAO کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سے تنظیم کی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
صدر ٹو لام نے کہا کہ ویتنام ہوا بازی کی سلامتی، تحفظ، فضائی نیویگیشن، ماحولیات، پائیدار ہوا بازی، پائیدار ایوی ایشن فیول (SAF)، اخراج میں کمی، ڈیجیٹل تبدیلی اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں (UAVs) کے انتظام سمیت مختلف شعبوں میں نئے عالمی قواعد و معیارات کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
توشیوکی اونُما نے ICAO کی سرگرمیوں اور حالیہ برسوں کے دوران ویتنام کے شہری ہوا بازی کے شعبے کے لیے تنظیم کی معاونت کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ICAO کے 193 رکن ممالک کی مشترکہ کوششوں سے بین الاقوامی شہری ہوا بازی امن، دوستی، تعاون اور ترقی کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے اور دنیا بھر کے عوام کے لیے مواقع اور خوشحالی پیدا کر سکتی ہے۔
صدر ٹو لام نے کہا کہ ویتنام کا ہوا بازی کا شعبہ حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ملک ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے، بالخصوص اہم ہوائی اڈوں کی ترقی پر توجہ دے رہا ہے تاکہ ویتنام کو مسافروں اور کارگو کی علاقائی منتقلی کے مرکز میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے جدید اور پائیدار انتظامی و آپریشنل ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور قومی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
صدر ٹو لام نے ICAO کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے تنظیم سے تکنیکی معاونت جاری رکھنے، ہوا بازی کی سلامتی و نگرانی کی صلاحیت بڑھانے اور ICAO کے قواعد و معیارات کی تعمیل یقینی بنانے میں مدد کی درخواست کی۔
انہوں نے ICAO میں ویتنام کی زیادہ مؤثر نمائندگی اور ہوا بازی سے متعلق بین الاقوامی کثیرالجہتی نظام اور اقدامات میں ویتنام کی فعال شرکت کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جن میں ICAO Global Coalition for Sustainable Aviation بھی شامل ہے۔