شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کی نیشنل ڈیجیٹل وژن پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت

Read Time:3 Minute, 26 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نئے قائم کیے گئے وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام قومی مرکزی ڈیٹا سینٹر "اسکائی 47” کی سہولیات فوری طور پر تمام وفاقی اداروں کے لیے دستیاب بنائی جائیں۔

وزیراعظم نے نیشنل ڈیجیٹل وژن پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کا اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے تاکہ صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ شراکت داروں کو قومی ڈیجیٹل پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے آگاہ کیا جا سکے۔

نیشنل ڈیجیٹل کمیشن ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت قائم کیا گیا ہے، جس کی سربراہی وزیراعظم کرتے ہیں جبکہ تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ اس کے ارکان ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سرکاری شعبے کے لیے متحدہ قومی ڈیٹا سینٹر تمام حکومتی اداروں کے ڈیٹا کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جس سے الگ الگ محکموں کے ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور قومی وسائل کی نمایاں بچت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی حکومتی خدمات، سماجی نظام اور شہریوں کو مرکزِ نگاہ رکھتے ہوئے سروسز کی فراہمی کے شعبوں میں تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک جامع قومی ڈیجیٹل وژن پر عملدرآمد ایک مربوط اور جدید معاشرے کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے نیشنل ڈیجیٹل وژن کے تین بنیادی ستونوں، ڈیجیٹل معیشت، ڈیجیٹل شہری خدمات اور ڈیجیٹل حکومتی خدمات کے تحت ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مربوط پالیسی پر مؤثر عملدرآمد سے پاکستان کی عالمی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی اور عالمی فورمز پر ملک کی نمائندگی بہتر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے نافذ کیا جانے والا یہ وژن فیصلہ سازی، ادارہ جاتی کارکردگی اور شفافیت کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ نیشنل ڈیجیٹل وژن کے تحت ابتدائی طور پر صحت، زراعت، یوٹیلیٹیز، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو ترجیح دی جائے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے کی مکمل تکمیل کے بعد شہری ایک متحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ایک ہی ڈیجیٹل شناخت کے تحت متعدد سرکاری سہولیات حاصل کر سکیں گے، جن میں دستاویزات کی تصدیق، بینکاری، صحت کی سہولیات، مالیاتی منتقلی اور دیگر ضروری عوامی خدمات شامل ہوں گی۔

اجلاس کے دوران حکام نے شرکاء کو بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق نیشنل ڈیجیٹل وژن پر عملدرآمد زراعت، خوراک، صحت، توانائی، ہاؤسنگ اور ایس ایم ایز کے شعبوں میں شروع ہو چکا ہے۔

حکام نے بتایا کہ مزید 14 ترجیحی شعبوں میں بھی کام جاری ہے، جس سے ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ہاؤسنگ کے شعبے میں وژن کے نفاذ کے تحت تمام سرکاری اور نجی املاک کے لیے ایک مرکزی شناختی نمبر متعارف کرایا جائے گا، جبکہ ایس ایم ایز کے شعبے میں منفرد قانونی کاروباری شناخت پر مبنی متحدہ نظام قائم کیا جائے گا، جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔

حکام نے مزید بتایا کہ نیشنل ڈیجیٹل وژن پر مکمل عملدرآمد کے لیے درکار تمام قانونی، انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات کو تیز کیا جا رہا ہے، جبکہ اس عمل میں عالمی بہترین طریقہ کار، ماہرین کی تجاویز اور بین الاقوامی اداروں کی معاونت کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قومی صحت خدمات سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post صدر آذربائیجان الہام علییف کی یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ کے صدر سے ملاقات، کھیلوں کے تعاون پر تبادلہ خیال