
سوات کے کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش دھماکہ، 6 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
پشاور، یورپ ٹوڈے: خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں واقع پولیس اسٹیشن کے باہر اتوار کے روز ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق افراد میں چھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آور نے کبل پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے مرکزی عمارت تک پہنچنے سے روک دیا۔ اس کے بعد حملہ آور نے پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جہاں قریب ہی مقامی شہریوں کی جانب سے ایک امن ریلی بھی جاری تھی۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد عمر نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں چھ پولیس اہلکار اور کم از کم نو شہری شامل ہیں۔ دھماکے میں 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں، خصوصاً سیدو شریف ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ریسکیو ٹیموں اور ایمبولینسوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس سید فدا حسین نے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس اہلکاروں نے خودکش حملہ آور کو پولیس اسٹیشن کے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اسٹیشن کے اطراف کئی حساس سرکاری تنصیبات بھی موجود ہیں، جنہیں ممکنہ بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔
واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے پورے ضلع سوات میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے تمام سرکاری اسپتالوں، ریسکیو اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے اور امدادی کارروائیوں میں مکمل تعاون کی ہدایت جاری کر دی۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم حکام کے مطابق ابتدائی شبہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر جاتا ہے، جس نے حالیہ مہینوں کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں اپنی دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔