
آذربائیجان اور یوکرین کے درمیان توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق، گیس فراہمی کی پیشکش
کیف، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بائراموف نے کہا ہے کہ اقتصادی تعاون آذربائیجان اور یوکرین کے تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے یہ بات 6 اگست کو یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
جیہون بائراموف نے یوکرین کی مارکیٹ میں آذربائیجان کی سرکاری تیل کمپنی SOCAR کی طویل عرصے سے موجودگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کئی دہائیوں سے یوکرین میں فعال ہے اور اب بھی وہاں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں تعاون کے نئے اور اضافی امکانات پر جامع اور بامعنی بات چیت کی ہے، جو دوطرفہ تعلقات میں توانائی کے تحفظ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔
آذربائیجانی وزیر خارجہ کے مطابق آذربائیجان اس وقت دنیا کے 16 ممالک کو قدرتی گیس فراہم کر رہا ہے، جن میں 12 یورپی ممالک شامل ہیں، جبکہ ان میں سے 10 یورپی یونین کے رکن ممالک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں آذربائیجان ضرورت پڑنے پر یوکرین کو بھی قدرتی گیس فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایسا تعاون یوکرین کے توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
بائراموف نے مزید کہا کہ آذربائیجان اور یوکرین کے درمیان توانائی کے تحفظ کے شعبے میں تعاون صرف دوطرفہ دائرہ کار تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ دونوں ممالک وسیع جغرافیائی خطے میں توانائی کے تحفظ کے فروغ میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آذربائیجانی وزیر خارجہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ باکو یوکرین کے ساتھ اقتصادی اور توانائی کے روابط کو مزید وسعت دینے کے ساتھ ساتھ باہمی اسٹریٹجک مفادات کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔