
صدر الہام علیئیف کا ممتاز شاعر نریمان حسن زادہ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت، قومی ثقافتی ورثے کا عظیم نقصان قرار
باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے ممتاز آذربائیجانی شاعر، ڈرامہ نگار اور عوامی شخصیت نریمان حسن زادہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی ادبی و ثقافتی برادری کے لیے ایک عظیم نقصان قرار دیا ہے۔
اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری تعزیتی پیغام میں صدر علیئیف نے کہا کہ آذربائیجان کی ثقافتی دنیا نے عوامی شاعر نریمان علی محمد اوغلو حسن زادہ کے انتقال سے ایک "بہت بڑا نقصان” اٹھایا ہے۔ 96 سالہ نریمان حسن زادہ یکم اگست 2026 کو انتقال کر گئے۔
صدر نے انہیں جدید آذربائیجانی ادب کی نمایاں ترین شخصیات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حیدر علیئیف انعام، صدارتی اعزازی وظیفے اور متعدد اعلیٰ ریاستی اعزازات کے حامل تھے، جن میں اعزازی فنکار اور عوامی شاعر کے خطابات بھی شامل ہیں۔
نریمان حسن زادہ 2 فروری 1931 کو آذربائیجان کے ضلع قازاخ کے گاؤں پوئلو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے حسن بے زردابی گنجہ اسٹیٹ پیڈاگوجیکل انسٹی ٹیوٹ سے زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں ماسکو کے میکسم گورکی ادبی ادارے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر باکو اسٹیٹ یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ تعلیم مکمل کرتے ہوئے "کینڈیڈیٹ آف سائنسز” کی ڈگری حاصل کی۔
چھ دہائیوں سے زائد پر محیط اپنے شاندار ادبی کیریئر کے دوران نریمان حسن زادہ نے آذربائیجان کی ادبی اور ثقافتی زندگی میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے آذربائیجانی یوتھ اخبار، آذربائیجان میگزین اور آذربائیجان ٹیلی ویژن و ریڈیو براڈکاسٹنگ کمیٹی میں ادارتی ذمہ داریاں نبھائیں، جبکہ 1978 سے 1991 تک ادب و فن اخبار کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے ملک کے ادبی منظرنامے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
1991 سے 2001 تک وہ آذربائیجان کے فرسٹ ڈپٹی وزیرِ پریس و اطلاعات رہے اور قائم مقام وزیر کی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہے۔ 2001 سے اپنی وفات تک وہ نیشنل ایوی ایشن اکیڈمی کے شعبۂ علومِ انسانی کے سربراہ رہے، جہاں انہوں نے تعلیمی اور ثقافتی ترقی میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔
صدر الہام علیئیف نے کہا کہ نریمان حسن زادہ ایک ایسے عظیم شاعر تھے جنہوں نے اپنے منفرد اسلوب، حب الوطنی، قومی شناخت سے وابستگی اور اعلیٰ ادبی معیار کے ذریعے آذربائیجانی ادب کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی شاعری اور منظوم ڈراموں میں وطن سے محبت، آزادی، اخلاقی اقدار، روحانی بیداری اور آذربائیجان کی تاریخی شخصیات و اہم واقعات کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔
ان کی متعدد نظموں کو مقبول گیتوں کی شکل دی گئی، جبکہ ان کے ڈرامے ملک بھر کے تھیٹروں میں بے حد پسند کیے گئے۔ ان کی تخلیقات اپنی سادگی، جذباتی گہرائی اور مؤثر اظہار کے باعث آج بھی آذربائیجانی ادب کا قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔
صدر علیئیف نے ان کی ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ایک محقق، استاد اور عوامی رہنما کے طور پر کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے مختلف ادبی اداروں میں قائدانہ ذمہ داریاں ادا کیں اور مختلف قانون ساز اداروں میں عوامی نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
آذربائیجان کی آزادی کے بعد ملک نے ادب و ثقافت کے فروغ میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں اعلیٰ ترین قومی اعزازات سے نوازا، جن میں شہرت آرڈر (2001)، شرف آرڈر (2011)، استقلال آرڈر (2021) اور حیدر علیئیف آرڈر (2026) شامل ہیں۔
اپنے تعزیتی پیغام کے اختتام پر صدر الہام علیئیف نے کہا کہ نریمان حسن زادہ ایک غیر معمولی شاعر، ڈرامہ نگار، دانشور اور نہایت منکسر المزاج عوامی شخصیت تھے، جن کی یاد ہمیشہ آذربائیجان کے عوام کے دلوں میں زندہ رہے گی۔
صدر نے دعا کرتے ہوئے کہا، "اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا کرے۔”