
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، اجتماعی سلامتی کے عزم کا اعادہ
مکہ مکرمہ، یورپ ٹوڈے: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعہ کے روز مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی کے فروغ، دفاعی تعاون میں توسیع اور اسٹریٹجک رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
معاہدے پر دستخط مکہ مکرمہ میں الصفا پیلس میں منعقدہ مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس کے دوران کیے گئے۔
اجلاس میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شرکت کی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کیا۔
وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف تینوں ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت اور بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف ہونے والا مسلح حملہ تمام تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید فروغ دینے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات، اخوت اور اسلامی یکجہتی کے دیرینہ رشتوں کے ساتھ ساتھ مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کی بنیاد پر طے پایا۔
بیان کے مطابق سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
اس معاہدے کو تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانا اور ایک محفوظ و خوشحال مستقبل کی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔
اس سے قبل سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کا الصفا پیلس، مکہ مکرمہ میں استقبال کیا، جہاں مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کے دوران سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دوستانہ اور دیرینہ تعلقات، دفاعی و اسٹریٹجک تعاون کا جائزہ لیا گیا، جبکہ باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔