زرداری

پاکستان کو انصاف، مساوات اور رواداری کا علمبردار بنانے کے عزم کی تجدید ضروری ہے، صدر زرداری

Read Time:3 Minute, 28 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس عزم کی تجدید پر زور دیا ہے کہ پاکستان کو ایسا ملک بنایا جائے جہاں انصاف، مساوات، رواداری اور انسانیت کی خدمت اس کی بنیادی پہچان ہوں۔

قومی اقلیتی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ آنے والی نسلوں کو ایسا پاکستان ورثے میں ملے جو امن، ترقی، استحکام اور باہمی احترام کا علمبردار ہو۔

صدر آصف علی زرداری نے قومی اقلیتی دن کے تاریخی موقع پر تمام پاکستانیوں، بالخصوص ملک کی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتوں نے تنازعات، جنگوں، صحت، تعلیم اور زندگی کے دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور آج بھی اپنے دیگر ہم وطنوں کے ساتھ مل کر قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

صدر نے کہا کہ پوری قوم اقلیتی برادریوں کی قومی خدمات، حب الوطنی اور ملک کی جامع ترقی و خوشحالی میں ان کے اہم کردار پر فخر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اقلیتی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ایک مضبوط، پرامن اور مستحکم ریاست کی بنیاد صرف معاشی ترقی پر نہیں بلکہ انصاف، مساوات، باہمی احترام اور انسانی وقار کے تحفظ پر بھی قائم ہوتی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی طاقت اس کے عوام میں مضمر ہے جو مذہبی، ثقافتی اور روایتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک قومی پرچم تلے متحد ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ریاست کے سامنے مذہب یا عقیدے سے قطع نظر ہر شہری کو مساوی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

صدر سیکریٹریٹ کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق صدر نے کہا کہ آج سے 79 برس قبل اسی روز بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے اپنا وژن پیش کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے الفاظ آج بھی ہماری جمہوری ریاست کے بنیادی تشخص اور روح کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ تقریباً ایک چوتھائی صدی بعد 1973 میں قومی قیادت نے ملک کا پہلا متفقہ آئین تشکیل دیا، جس میں قائداعظم کی تقریر میں بیان کردہ بنیادی اصولوں کو مؤثر طور پر شامل کیا گیا۔

صدر مملکت نے قائداعظم محمد علی جناح کے تاریخی الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی حاصل ہے اور کسی فرد کا مذہب، ذات یا عقیدہ ریاستی امور سے متعلق نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ریاست کے تمام شہری برابر ہیں۔

صدر زرداری نے کہا کہ قائداعظم کا یہ وژن 1973 کے آئین میں مکمل طور پر شامل کیا گیا، جو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں قومی رہنماؤں نے تشکیل دیا۔

انہوں نے کہا کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے مختلف مواقع پر مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر خصوصی زور دیا تھا۔

صدر نے کہا کہ پاکستان کا آئین بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور قانون کے تحت مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ان آئینی اصولوں کا تحفظ صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مضبوط اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے بھی بنیادی تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقلیتی برادریوں نے تعلیم، صحت، قانون، کاروبار، فنون، کھیل، تحقیق، سماجی خدمات اور ملک کے دفاع سمیت قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہر پاکستانی ملک کی ترقی اور تعمیر میں یکساں طور پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے تمام مذہبی رہنماؤں، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ ایسا سماجی ماحول تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں جہاں ہر شہری کے مذہب، شناخت اور انسانی وقار کا احترام یقینی بنایا جائے۔

صدر آصف علی زرداری نے قومی تعمیر و ترقی میں اقلیتی برادریوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی خوشحالی، فلاح و بہبود، سلامتی اور مستقبل کی کامیابیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post امریکہ، آرمینیا اور آذربائیجان کا جنوبی قفقاز میں پائیدار امن اور علاقائی استحکام کے عزم کا اعادہ