پاکستان

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے تحت سیکریٹریٹ کی پہلی سربراہی پاکستان سنبھالے گا

Read Time:2 Minute, 30 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: ترک اور عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کیے جانے والے سیکریٹریٹ کی ابتدائی تین سالہ سربراہی پاکستان کرے گا، جس کے بعد یہ ذمہ داری بالترتیب سعودی عرب اور ترکیہ کو منتقل کی جائے گی۔

معاہدے کے تحت سیکریٹریٹ تینوں ممالک کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی اور مشترکہ دفاعی تعاون کو مربوط رکھنے کے لیے مرکزی ادارے کے طور پر کام کرے گا۔

رپورٹس کے مطابق معاہدے کی بنیاد اجتماعی سلامتی کے اصول پر رکھی گئی ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ تاہم، کسی بھی جارحیت کی صورت میں ردعمل خودکار نہیں ہوگا بلکہ واقعے کی نوعیت اور متاثرہ ملک کی درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ طور پر طے کیا جائے گا۔

فیصلہ سازی کے لیے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور تینوں ممالک کے سربراہانِ افواج پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کونسل تشکیل دی جائے گی۔ اس کونسل کے سال میں دو اجلاس منعقد ہونے کی توقع ہے۔

دفاعی تعاون کا مجوزہ ڈھانچہ بعض پہلوؤں سے نیٹو کے اجتماعی دفاع کے تصور سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس میں خودکار فوجی ردعمل کے بجائے حالات کے مطابق لچکدار فیصلہ سازی کو ترجیح دی گئی ہے۔ ممکنہ تعاون میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، رسد اور لاجسٹک معاونت سے لے کر ضرورت کے مطابق براہِ راست فوجی معاونت تک مختلف اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

معاہدے میں دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کو بھی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت بغیر پائلٹ فضائی و دیگر نظام، الیکٹرانک جنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کو ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس کا مقصد کمانڈ اور آپریشنل ڈھانچوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔

پاکستان کے لیے سیکریٹریٹ کی ابتدائی تین سالہ سربراہی کو محض انتظامی ذمہ داری کے بجائے علاقائی دفاعی سفارت کاری میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ دفاعی تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کے وسیع تر تناظر میں بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔

ترکیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، رابطہ کاری اور مشترکہ سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

معاہدے کے تحت مجوزہ ادارہ جاتی ڈھانچہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو منظم بنانے، مشترکہ ترجیحات پر عمل درآمد کی نگرانی اور بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان کے گاراباغ اور رومانیہ کے مارامورش خطے کے درمیان کاروباری تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال