ترکمانستان

ترکمانستان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں وسیع عالمی اقدامات پیش کرنے کا اعلان

Read Time:5 Minute, 12 Second

عشق آباد، یورپ ٹوڈے: ترکمانستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ 81ویں اجلاس میں بین الاقوامی اقدامات کا ایک جامع پیکیج پیش کرے گا، جس کا مقصد عالمی امن، بین الاقوامی سلامتی، پائیدار ترقی اور تعمیری کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کیلئے ملک کے عزم کو مزید اجاگر کرنا ہے۔

ذمہ دار رکنِ عالمی برادری کی حیثیت سے ترکمانستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے سے متعلق تجاویز آگے بڑھانے کیلئے اہم پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرے گا۔ ترکمانستان کی خارجہ پالیسی میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مستقل غیر جانبداری، پیشگی سفارت کاری، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے ساتھ ترکمانستان کا تعاون عالمی امن و سلامتی کے قیام، پائیدار ترقی کے فروغ اور پیشگی سفارت کاری کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے مشترکہ مقاصد پر مبنی ہے۔ ترکمانستان اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امن و اعتماد، مکالمے اور بین الاقوامی امن و پائیدار ترقی میں غیر جانبداری کے کردار سے متعلق متعدد قراردادیں پیش کر چکا ہے۔

81ویں اجلاس کے دوران ترکمانستان ’’عالمگیر امن کی حکمت عملی‘‘ کی تیاری کیلئے بین الحکومتی مشاورت کو فروغ دینے کی تجویز پیش کرے گا، جو امن، سلامتی اور پیشگی سفارت کاری کے اصولوں پر مبنی ہوگی۔ اس کے علاوہ 2027 سے 2037 کو اقوام متحدہ کی ’’مکالمے اور پیشگی سفارت کاری کی دہائی‘‘ قرار دینے اور اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت ’’کثیرالجہتی نظام اور ریاستوں کی خودمختار مساوات کے دوستوں کا گروپ‘‘ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی جائے گی۔

امن اور غیر جانبداری کی ادارہ جاتی بنیادوں کو مضبوط بنانا بھی ترکمانستان کے اقدامات کا اہم حصہ ہوگا۔ اس سلسلے میں ترکمانستان کی وزارت خارجہ کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے شعبہ امن و غیر جانبداری کے تحت ’’امن، غیر جانبداری اور پیشگی سفارت کاری کا اکیڈمک مرکز‘‘ قائم کرنے کیلئے مشاورت متوقع ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت بھی ترکمانستان کے عالمی ایجنڈے میں نمایاں مقام رکھیں گی۔ ترکمانستان اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ’’بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری میں مصنوعی ذہانت کے پرامن استعمال کا بین الاقوامی ضابطہ‘‘ تیار کرنے کی تجویز پیش کرے گا۔ عشق آباد میں ڈیجیٹل اعتماد اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق بین الاقوامی ماہرین کا مکالمہ بھی منعقد کیے جانے کی توقع ہے۔

ترکمانستان وسطی ایشیا کیلئے اقوام متحدہ کے علاقائی مرکز برائے پیشگی سفارت کاری کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا اور علاقائی امن و استحکام میں مرکز کی خدمات سے متعلق ایک نئی مسودہ قرارداد پیش کرنے کی تجویز دے گا۔

پائیدار ترقی اور بین الاقوامی نقل و حمل میں تعاون بھی ترکمانستان کے اہم اقدامات میں شامل ہوگا۔ 2026-2035 کی پائیدار نقل و حمل کی دہائی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کی منظوری کے بعد ترکمانستان پائیدار ٹرانسپورٹ روابط کا عالمی اٹلس تیار کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ ملک 2024-2034 کے اوازہ پروگرام آف ایکشن اور اوازہ سیاسی اعلامیے پر عملدرآمد کو بھی فروغ دے گا۔

اس کے علاوہ ترکمانستان اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ’’پائیدار تجارتی لاجسٹکس اور کسٹمز تعاون کے بین الاقوامی مرکز‘‘ کے قیام کی تجویز پیش کرے گا۔ وہ بحیرہ کیسپین کے راستے جنوبی اور وسطی ایشیا کو یورپ سے ملانے والے بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کوریڈور کے قیام کی بھی حمایت کرے گا، جس کا مقصد تجارتی روابط کو وسعت دینا اور خطوں کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کا تحفظ بھی ترکمانستان کے بین الاقوامی ایجنڈے کے اہم اجزا رہیں گے۔ ملک موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے کثیرالجہتی پلیٹ فارم کے طور پر ’’عشق آباد کلائمیٹ ڈائیلاگ‘‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کرے گا۔

ترکمانستان خشک سالی اور پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں میں موسمیاتی لچک بڑھانے کیلئے اقدامات کو بھی فروغ دے گا۔ قابل اعتماد اور پائیدار توانائی رابطوں کے فروغ کیلئے سب کیلئے مستحکم توانائی سے متعلق اعلیٰ سطحی فورم کی تیاری کے سلسلے میں مشاورت بھی کی جائے گی۔

انسانی ہمدردی کے شعبے میں تعاون، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا، بھی ترکمانستان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔ ملک وسطی ایشیا کی خواتین کے مکالمے کو مزید فروغ دینے اور خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کے تحت متعلقہ اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح وسطی ایشیا یوتھ ڈائیلاگ اور نوجوان، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کے ذریعے نوجوانوں کی عالمی امن سازی اور علاقائی اقدامات میں شرکت بڑھانے پر بھی زور دیا جائے گا۔

بین الاقوامی قانون بھی ترکمانستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ملک 2028 کو بین الاقوامی قانون کا سال قرار دینے کی تجویز آگے بڑھائے گا، جس کا مقصد عصر حاضر کے بین الاقوامی تعلقات میں اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس کے ساتھ بین الاقوامی قانون، تخفیف اسلحہ، غیر جانبداری، پیشگی سفارت کاری اور پائیدار ترقی کے باہمی تعلق پر ایک بین الاقوامی فورم کے انعقاد کی تیاری بھی متوقع ہے۔

ترکمانستان 2026-2028 کی مدت کیلئے اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ECOSOC) کے رکن کی حیثیت سے اپنا کام جاری رکھے گا اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں، کمیشنوں اور ڈھانچوں میں بھی فعال شرکت کرے گا۔ ملک 2031-2032 کی مدت کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ممکنہ رکنیت کے انتخاب کیلئے اپنی امیدوار ی کی تیاری کے ساتھ ساتھ دیگر منتخب اقوام متحدہ کے اداروں کیلئے بھی نامزدگیوں پر کام کر رہا ہے۔

ترکمانستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے اقدامات کا وسیع دائرہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کثیرالجہتی تعاون کے ذریعے فعال اور تعمیری کردار ادا کرنے کے ملک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ترکمانستان کے مطابق اس کی تجاویز مستقل غیر جانبداری، پرامن مکالمے، باہمی اعتماد، مساوات اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔

81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کیلئے اپنی ترجیحات کے ذریعے ترکمانستان کا مقصد بین الاقوامی امن و سلامتی کے استحکام، پیشگی سفارت کاری کے فروغ، پائیدار تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور موجودہ و آئندہ نسلوں کے مفاد میں مشترکہ مقاصد کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر صدر ٹرمپ کے اظہارِ حمایت کی پذیرائی
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف کی ڈیجیٹل اصلاحات تیز کرنے، سرکاری خدمات کو جدید بنانے کی ہدایت