پورٹ

صدر مملکت کی کیٹی بندر پورٹ کی ترقی کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے پر زور

Read Time:2 Minute, 10 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے مجوزہ کیٹی بندر پورٹ کی ترقی کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے کو قابلِ اعتماد سڑکوں کے رابطے، بجلی اور پانی کی فراہمی، صنعتی بنیادی ڈھانچے اور دیگر ضروری سہولیات سے منسلک کیا جانا چاہیے۔

صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی (CHEC) کی جانب سے کیٹی بندر پورٹ کی مجوزہ ترقی کے حوالے سے دی گئی بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے چینی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور بحری ترقی کے شعبوں میں چین کی مسلسل دلچسپی کو سراہا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ کیٹی بندر میں ایک اضافی بحری گیٹ وے کے طور پر نمایاں صلاحیت موجود ہے، جو پاکستان کے بندرگاہی اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے چینی فریق اور متعلقہ پاکستانی حکام کے درمیان قریبی تکنیکی رابطے اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ منصوبے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

صدر مملکت نے ماحولیاتی پائیداری کو منصوبے میں بنیادی اہمیت دینے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بالخصوص دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے حساس ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور مقامی ماہی گیر برادریوں کے مفادات اور روزگار کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے ماسٹر پلان کو مزید بہتر بنانے اور منصوبے کے لیے مناسب عملدرآمد اور مالیاتی فریم ورک وضع کرنے کے لیے تکنیکی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کی بھی حوصلہ افزائی کی۔

چینی وفد نے کیٹی بندر پورٹ کے تصوراتی ماسٹر پلان پر بریفنگ دیتے ہوئے ایک نئی گہرے پانی کی بندرگاہ کے قیام کی تجویز پیش کی، جس میں متعدد ٹرمینلز، لاجسٹکس اور معاون بنیادی ڈھانچے کی سہولیات شامل ہوں گی۔

مجوزہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 500 میٹر طویل کوے کے ساتھ ایک کثیرالمقاصد ٹرمینل کی تعمیر شامل ہے، جس کی ابتدائی انجینئرنگ لاگت کا تخمینہ تقریباً 522.34 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔

چینی وفد میں پاکستان میں چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی کے چیف نمائندے وو پنگ، مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ وانگ زونگ ڈے اور انجینئر شو ٹیلن شامل تھے، جبکہ علی رضا، جنرل منیجر اسٹریٹیجی اینڈ مارکیٹنگ بھی وفد کا حصہ تھے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹرز سلیم مانڈوی والا اور شیری رحمان، سندھ کے وزیر برائے توانائی، منصوبہ بندی و ترقی ناصر حسین شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سید قاسم نوید قمر اور چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے بھی شرکت کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
کمیشن Previous post روسی الیکشن کمیشن کی چیئرپرسن اور چیف الیکشن کمشنر پاکستان کی ملاقات، انتخابی تعاون پر تبادلہ خیال