
نوجوانوں کی کردار سازی اور فکری تربیت میں سیرت نبوی ؐ کا کردار
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں نوجوانوں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور ان کی صحیح سمت میں راہنمائی، اخلاقی تربیت اور فکری نشوونما ہی ایک مضبوط اور متوازن معاشرے کو بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کسی بھی تحریک کی کامیابی میں نوجوانوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے اور یہی نوجوان کسی بھی تحریک کا اہم ستون ہوتے ہیں۔ ان کی قربانی اور فداکاری کے جذبے سے ہی تحریک غلبے کی طرف بڑی سرعت سے پیش قدمی کرتی ہے۔ دین اسلام کی ترویج وترقی میں بھی ابتدائی رضاکاروں میں سب نوجوان ہی تھے اور تاریخ بتاتی ہے کہ اس معاشرے میں جہاں قانون اور نظم وضبط اور تنظیم وسیاسی وحدت کا تصور بھی محال تھا وہاں قلیل مدت میں ایک ایسی ہمہ گیر ریاست وجود میں آئی جہاں اللہ تعالیٰ کی برتر ذات کے علاوہ ہرقسم کی غلامی کا قلع قمع ہوا اور عدل و انصاف اور امن وآشتی کی ایسی فضا قائم ہوئی جس کی نظیر قدیم وجدید اقوام عالم کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ عالم انسانیت کا یہ بے مثال انقلاب اللہ رب العزت کی منتخب کردہ عظیم شخصیت ؐکے ہاتھوں برپا ہوا جس کے سامنے مصائب و مشکلات کے ناقابل تسخیر پہاڑ تھے جنہیں آپ ؐ نے اپنے نوجوان ساتھیوں کی مدد ونصرت سے سر کر کے ایک منظم ریاست کی بنیاد رکھی۔
آپؐ نے ان نوجوانوں کی ذہنی، بدنی اور فکری صلاحیتوں کو اسلام کی ترویج واشاعت کے لیے اس طرح بروئے کار لائے کہ دنیا کی کوئی رغبت، کشش اور رنگینی انہیں ان کی متعین کردہ منزل سے ذرہ برابر بھی دور نہ کر سکی اوردنیا نے آپؐ کی اعلیٰ تربیت کا نتیجہ دیکھا کہ ان نوجوانوں نے انتہائی کم عرصے میں جزیرہ نمائے عرب سے لے افریقہ کے صحراؤں اور یورپ کے ایوانوں تک کو اسلام کی روشنی سے روشن ومنور کردیا۔ یہ نبی اکرم ؐ کی شخصیت کا اعجاز ہی تھا کہ وہ نوجوان زمانے کی اخلاقی گراوٹ اور ذہنی وبدنی پراگندگی سے اپنا پہلو بچا کے دنیا کے عظیم سپہ سالار بنے چونکہ انسان کے تمام افعال و اعمال، حرکات وسکنات اور اس کی تخریب وتعمیر کا دارومدار عقائد پر ہی ہوتا ہے جس کے لیے ضروری تھا کہ ان نوجوانوں کے نظریات وخیالات کو ایک نظم وضبط کے دائرے میں لاکر ان میں انفرادی کے بجائے اجتماعی سوچ کو پروان چڑھایا جائے اور یہ اسی صورت ممکن تھا جب ان کے عقائد ونظریات میں ہم آہنگی موجود ہو۔
آپ ؐ نے جب ان کے ذہنوں کو صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان کے بنیادی نقطے پر مرکوز کر دیا تو وہ ایک نئی اور منفرد قوم بن کر ابھرے کہ جس نے ایک منفرد و بے مثال انقلاب برپا کرکے قیصر وکسریٰ کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا چونکہ بعثت پاک کے وقت خود حضور نبی اکرم ؐ ایک وجیہہ اور شکیل نوجوان تھے اور آپؐ کے اصحاب ؓ میں کوئی آپ ؐ کا ہم عمر تھا، کوئی آپؐ سے عمر میں چھوٹا اور کوئی بالکل نوجوان اور کوئی لڑکپن کے بانکپن میں سے نکلتا ہوا۔ اس وقت ان نیک بخت اصحاب ؓ نے اپنی زندگی کی جوان بہاریں اسلام کے اس پودے کی آبیاری کے لیے وقف کردیں۔ آپ ؐ نے ان نوجوانوں کو امت کا بہترین سرمایہ قرار دے کر ان کی فکری تربیت کرکے ان کی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے اہم ذمہ داریوں کے لیے انہیں منتخب کیا تو انہوں نے آپؐ کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا۔ آپؐ نے ان نوجوانوں کی کردار سازی اس طرح کی کہ دنیاکی کوئی لالچ کوئی آلائش ان کے دامن کو داغدار نہ کرسکی اور عہدنبوی ؐ کے ان درخشاں ستاروں نے علمی وعملی میدانوں میں ایسے ایسے زریں کارنامے سرانجام دیے کہ آج بھی دنیا ان سے راہنمائی حاصل کررہی ہے۔
حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت سے پہلے پوری دنیا اور بالخصوص عرب کے علاقے کے حالات انتہائی دگرگوں تھے اور وہاں کا پورا معاشرہ منتشر اور پراگندہ جس میں اخلاقی، انتظامی، سیاسی، معاشرتی اور روحانی قدروں کی پامالی اس حد تک ہوچکی تھی کہ وہ ایک منظم معاشرہ کہلوانے کے لائق نہ تھا۔ نوجوانوں کی فکری تربیت آپ ؐ نے اس طرح فرمائی کہ ان میں تنقیدی نکتہ نظر سے معاملات کو چھان پھٹک اور سمجھ کر فیصلہ کرنے کی سوچ کو فروغ دیا۔ آپ ؐ نے اعتدال کے ساتھ ہر معاملے میں توازن برقرار رکھنے کی مثبت فکر کو پروان چڑھایا۔ آپؐ نے اپنی حکمت اور تدبر سے ایک نئی طرز کے متوازن اور پرامن معاشرے کی بنیاد رکھی اور جنگ وجدل کو ٹالنے کے لیے میثاقِ مدینہ جیسے تاریخی اقدامات اس بات کی مثال قائم کر کے آپؐ نے نوجوانوں کو جوش کے بجائے ہوش سے کام لینے کا درس دیا اور وقت نے دیکھا کہ وقتی طور پر دب کر کیے گئے فیصلے آنے والے وقتوں میں فتح مبین کی نوید لے کر آئے۔
جناب رسولؐ پاک کی اپنی حیات مبارکہ صبر، استقامت اور حوصلہ سے عبارت تھی جب ا ن نوجوانوں میں شجاعت و حکمت، عفت وپاکیزگی اور عدل وانصاف جیسی خصوصیات مکمل طور پر رچ بس گئیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے راستے کی دیوار نہ بن سکی چاہے وہ عرب کی سرزمین ہو، فارس، ہسپانیہ یا قسطنطنیہ سب ان کے زیرنگیں تھیں۔ یہ انہی کی قربانیوں کا پھل ہی تھا کہ کئی صدیاں بعد جب برصغیر میں استعمار نے مسلمانوں کے ہزار سالہ عروج کو پامال کرنے کی کوشش کی تو اسی فکری تربیت سے جلا پاکر یہ نوجوان ہی تھے جو اس کے سامنے مزاحمت کے لیے کھڑے ہوئے اور جس کی پاداش میں پھانسیاں ان کا مقدر بنیں، کسی کو توپ کے دھانے پر باندھ کر اڑا دیا گیا اور کسی کو کالے پانی جیسی ذلت و رسوائی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں دھکیل دیا لیکن ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی اور انہوں نے قرون ِ اولیٰ کے اپنے پیشرؤوں کے سبق کو نہ بھلایا۔ یہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، سندھ مدرسۃ الاسلام، پنجاب یونیورسٹی لاہور، اسلامیہ کالج پشاور اور دوسرے علاقوں کے نوجوان ہی تھے جو اپنی کھوئی ہوئی نشاۃ ثانیہ کی بحالی کے لیے اٹھے اور جن کی عظیم جدوجہد سے دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی مملکت پاکستان کی صورت میں نمودار ہوئی اور پھرجب بھی اس مملکت کو ضرورت پڑی تو اس کی پکار پر لپکنے والے یہ نوجوان ہی تھے جنہوں نے اپنا خون جگرقربان کر کے اس کی حفاظت کی اور موجودہ معرکہ حق میں داد شجاعت دے کر پوری دنیا میں اپنے نام کا ڈنکا بجوانے والے یہ نوجوان ہی تھے جنہوں نے آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ، آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین سے وابستگی اور موجودہ مادی اور الحادی طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو ہروقت ہردم تیار وتازہ دم رکھا اور جب بھی وطن کی طرف سے تقاضا ہوا تو یہی نوجوان اس پر لبیک کہتے ہوئے دیوانہ وار اس کی عزت وحرمت پر قربان ہوگئے۔
عصرحاضر میں بھی نوجوانوں کوجس تہذیبی، تمدنی اور اخلاقی آزمائشوں کا سامنا ہے اوران سے نبردآزما ہونے کے لیے ان کی نظریاتی، اخلاقی اورکردار سازی ناگزیر ہے جس کی مکمل راہنمائی سیرت نبوی ﷺ میں موجودہے۔ امید واثق ہے کہ جب ہمارے یہی نوجوان اللہ پرایمان کامل اور جناب رسول اللہؐ کے اخلاق حمیدہ اور سیرت طیبہ کو اپناکر مسجد ومنبر کے وارث بنیں گے تو انشاءاللہ! ایک پاکیزہ معاشرہ وجودمیں آئے گا اور اسلام کا سنہری دورضرور واپس آئے گا!!!