
جنوری تا جولائی 2026 کے دوران انڈونیشیا کو 3.70 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے جنوری سے جولائی 2026 کے دوران اشیائے تجارت کے شعبے میں 3.70 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس ریکارڈ کیا ہے۔
انڈونیشیا کے ادارہ شماریات (بی پی ایس) کے ڈپٹی برائے ڈسٹری بیوشن اینڈ سروسز اسٹیٹسٹکس آتینگ ہارتونو نے منگل کو جکارتہ میں بتایا کہ مذکورہ مدت کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات 167.03 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 159.95 ارب ڈالر کے مقابلے میں سالانہ بنیاد پر 4.43 فیصد زیادہ ہیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق مینوفیکچرنگ صنعت نے مجموعی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ڈالا اور اس شعبے کی برآمدات 137.26 ارب ڈالر رہیں۔ اس کے بعد کان کنی اور دیگر شعبوں کی برآمدات 19.60 ارب ڈالر جبکہ زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبے کی برآمدات 3.15 ارب ڈالر رہیں۔
دوسری جانب جنوری تا جولائی 2026 کے دوران انڈونیشیا کی درآمدات 163.33 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 19.94 فیصد زیادہ ہیں۔
استعمال کے لحاظ سے درآمدات میں خام مال اور درمیانی درجے کی اشیا کا حصہ سب سے زیادہ رہا، جن کی مالیت 116.70 ارب ڈالر تھی۔ اس کے بعد سرمایہ جاتی اشیا 32.46 ارب ڈالر اور صارفین کی اشیا 14.16 ارب ڈالر رہیں۔
صرف جولائی 2026 میں انڈونیشیا نے 120 ملین ڈالر کا تجارتی سرپلس ریکارڈ کیا۔ اس ماہ برآمدات 26.22 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں 6.05 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ درآمدات 27.02 فیصد اضافے کے ساتھ 26.09 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
آتینگ ہارتونو کے مطابق جولائی میں بھی مینوفیکچرنگ صنعت انڈونیشیا کی غیر تیل و گیس برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا شعبہ رہی، جس کی برآمدات 21.76 ارب ڈالر رہیں۔ کان کنی کے شعبے کی برآمدات 3.10 ارب ڈالر جبکہ زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبے کی برآمدات 570 ملین ڈالر رہیں۔
جولائی 2026 میں درآمدات کے استعمال کے لحاظ سے بھی خام مال اور درمیانی درجے کی اشیا سرفہرست رہیں، جن کی مالیت 18.76 ارب ڈالر تھی۔ سرمایہ جاتی اشیا کی درآمدات 5.10 ارب ڈالر جبکہ صارفین کی اشیا کی درآمدات 2.24 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔