
ایس سی او رکن ممالک کے درمیان تجارت، توانائی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، پوتن
بشکیک، یورپ ٹوڈے: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کو ابھرتی ہوئی کثیر قطبی عالمی نظام کے ایک آزاد اور بااثر مرکز کے طور پر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور انسانی و سماجی شعبوں میں تعاون یوریشیا میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران ایس سی او نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تنظیم 2001 میں روس، چین، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان سمیت چھ ممالک کی مشترکہ کوششوں سے قائم ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ قیام کے بعد سے ایس سی او مسلسل مضبوط ہوئی، اس کا دائرۂ کار وسیع ہوا اور آج یہ ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کے آزاد اور بااثر عالمی مراکز میں شامل ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ ایس سی او نہ صرف یوریشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی سب سے بڑی علاقائی تنظیم بن چکی ہے۔ اس کے رکن ممالک دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ عالمی مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) میں ان کا حصہ ایک تہائی سے زائد ہے۔
انہوں نے کہا کہ رکن ممالک سیاسی، اقتصادی اور انسانی و سماجی شعبوں میں فعال باہمی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جو ان ممالک کی مستحکم اور پائیدار ترقی کے ساتھ ساتھ پورے یوریشیائی خطے میں امن و استحکام، باہمی اعتماد اور تعاون کے فروغ میں معاون ہے۔
ولادیمیر پوتن نے کہا کہ اجلاس کے بعد منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے اہم فیصلوں کا جامع پیکیج ایس سی او کے دائرہ کار میں شراکت داری کو نئی جہت اور مزید تقویت فراہم کرے گا۔
انہوں نے ایس سی او کی عملی ترجیحات میں رکن ممالک کے درمیان تجارتی روابط کے مزید فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں مستحکم سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے واضح فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
روسی صدر کے مطابق باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کا حجم سال بہ سال بڑھ رہا ہے اور 2025 میں ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ روس کی تجارت 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
انہوں نے کہا کہ رکن ممالک باہمی ادائیگیوں میں قومی کرنسیوں کے استعمال میں بھی مسلسل اضافہ کر رہے ہیں اور ایس سی او ممالک کے ساتھ روس کے لین دین میں قومی کرنسیوں کا حصہ 98 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔
انہوں نے ایس سی او بزنس کونسل اور بینکوں کے کنسورشیم کی اقتصادی منصوبوں کے نفاذ میں اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں تنظیم کے تحت قائم ہونے والا ترقیاتی بینک بھی اس عمل میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
ولادیمیر پوتن نے رائے ظاہر کی کہ ایس سی او کے ترقیاتی بینک کو ان ممالک کے مالیاتی نظاموں سے حتی الامکان آزاد ہونا چاہیے جو بین الاقوامی امور میں یک طرفہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے اقتصادی ذرائع کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2030 تک ایس سی او کی توانائی تعاون کی حکمت عملی کے مطابق مربوط اور متوازن توانائی پالیسی پر عمل جاری رکھنا تمام رکن ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
روسی صدر نے ثقافتی اور انسانی تعاون میں ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیم، صحت، ماحولیاتی تحفظ، سائنس اور نوجوانوں کے تبادلے کے شعبوں میں رکن ممالک کے روابط مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایس سی او یونیورسٹی کامیابی سے کام کر رہی ہے اور اس سے تنظیم کے رکن ممالک کی 100 سے زائد جامعات وابستہ ہیں۔ انہوں نے خواتین کے فورمز کے انعقاد کا بھی ذکر کیا، جن میں عوامی و سیاسی زندگی، کاروبار اور سماجی شعبوں میں خواتین کے کردار کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔
روسی صدر نے کرغزستان میں جاری ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں ایس سی او ممالک کی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ روس 2028 میں قازان میں اگلے ورلڈ نومیڈ گیمز کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور خواہش مند ممالک کی ٹیموں کا خیرمقدم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ روس ستمبر کے اواخر میں سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی متحدہ ثقافتوں کے فورم میں ایس سی او کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والی ثقافتی اور فنونِ لطیفہ کی نمایاں شخصیات کی میزبانی کا بھی منتظر ہے۔
ولادیمیر پوتن نے امید ظاہر کی کہ بشکیک میں ہونے والی مشترکہ کاوشیں پورے یوریشیا میں سلامتی، پُرامن ترقی اور خوش حالی کے لیے ایس سی او کے دائرہ کار میں کثیرالجہتی تعاون کو مزید فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔
انہوں نے یکم ستمبر کو دوسری عالمی جنگ کے آغاز کی یاد سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ مسلح تنازعات کو ہوا دینے کا رجحان بین الاقوامی طرزِ عمل کا حصہ نہ بننے پائے۔
روسی صدر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایس سی او رکن ممالک کی مشترکہ کاوشیں اس مقصد کے حصول اور عالمی و علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گی۔