
ویتنام اور فرانس کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
پیرس، یورپ ٹوڈے: کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام (سی پی وی) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر تو لام اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ویتنام اور فرانس کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے کے لیے نئی سمتوں پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق رائے جمعرات کو پیرس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر میکرون نے حالیہ برسوں میں ویتنام کی نمایاں سماجی و اقتصادی ترقی کو سراہتے ہوئے علاقائی اور عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے کردار اور مقام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ویتنام کے ترقی کے نئے مرحلے میں فرانس کی جانب سے مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
میکرون نے کہا کہ صدر تو لام کا دورہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے لیے باہمی امور پر تبادلہ خیال اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے نئی سمتیں متعین کرنے کا اہم موقع ہے۔
صدر تو لام نے بھی فرانس کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے عالمی سطح پر پیرس کے اہم کردار اور مقام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک میں فرانس وہ پہلا ملک تھا جس کے ساتھ ویتنام نے جامع اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی، جو دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے سیاسی اعتماد اور دوطرفہ تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کے تقریباً دو سال بعد دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کمیونسٹ پارٹی، حکومتوں، پارلیمانوں اور عوام کے درمیان سمیت مختلف سطحوں اور ذرائع سے باقاعدہ رابطوں کو برقرار رکھنے اور موجودہ تعاون کے طریقہ کار کو زیادہ مؤثر انداز میں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے ابھرتی ہوئی ترقیاتی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔
دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون
دفاع اور سلامتی کے حوالے سے ویتنام اور فرانس نے فوجی طب کے شعبے میں تربیت کے تعاون کو وسعت دینے، جرائم کے خلاف کارروائیوں کو مضبوط بنانے اور جرائم سے متعلق معلومات کے تبادلے کو بڑھانے پر اتفاق کیا، بالخصوص منظم اور سرحد پار جرائم کے خلاف اقدامات پر زور دیا گیا۔
ویتنام نے فرانس سے جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جاری کوششوں میں تعاون جاری رکھنے کی اپیل بھی کی، جن میں لاپتہ فوجی اہلکاروں کی تلاش اور جنگی یادگاروں و تاریخی اشیا کے تبادلے سے متعلق تعاون شامل ہے۔
اقتصادی اور تجارتی تعاون میں توسیع
دونوں رہنماؤں نے اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں نئے، اسٹریٹجک اور طویل المدتی تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا، خصوصاً ان صنعتوں اور خدمات پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا گیا جن کے وسیع تر اقتصادی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
دونوں ممالک نے ’’فرانسیسی ٹیکنالوجی، ویتنامی مینوفیکچرنگ، علاقائی و عالمی سپلائی‘‘ کے ماڈل کے تحت ویلیو چین شراکت داری کے امکانات کو اجاگر کیا، جس کا مقصد ویتنامی تیار شدہ مصنوعات، زرعی اجناس اور غذائی مصنوعات کو عالمی سپلائی چینز میں مزید مؤثر انداز میں شامل کرنا ہے۔
فرانس نے صدر تو لام کے دورے کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں متعدد تعاون کی دستاویزات پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔
صدر تو لام نے یورپی یونین۔ویتنام آزاد تجارتی معاہدے (EVFTA) پر مؤثر عمل درآمد جاری رکھنے پر زور دیا اور فرانس سے یورپی یونین۔ویتنام سرمایہ کاری تحفظ معاہدے (EVIPA) کی جلد توثیق مکمل کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے فرانس سے یورپی کمیشن پر زور دینے کا بھی مطالبہ کیا کہ غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم ماہی گیری (IUU) کے باعث ویتنام پر عائد ’’یلو کارڈ‘‘ ختم کیا جائے تاکہ ویتنام کو ماہی گیری کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینے میں مدد مل سکے۔
سائنس و ٹیکنالوجی تعاون اہم ستون قرار
دونوں فریقوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو دوطرفہ تعلقات کا ایک نیا اور اہم ستون بنانے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں یورپ میں فرانس کی نمایاں سائنسی حیثیت سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔
ترجیحی شعبوں میں خلائی ٹیکنالوجی، اہم معدنیات، کوانٹم ٹیکنالوجی، صاف توانائی، پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تحقیق شامل ہوگی۔
صدر تو لام نے سائنسی تحقیق، خصوصاً خلائی سائنس میں تعاون بڑھانے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینے اور جدید ٹیکنالوجیز میں ویتنام کی خود انحصاری کی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے فرانس سے کوانٹم ٹیکنالوجی کے شعبے میں ویتنام کی صلاحیتیں بتدریج ترقی دینے میں معاونت کی بھی درخواست کی۔
صدر میکرون نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک جلد ہی اسٹریٹجک سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑے نئے منصوبے شروع کریں گے۔
ثقافتی اور عوامی روابط کا فروغ
دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک میں ثقافتی ہفتوں اور ایام کے انعقاد کے ذریعے ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اکتوبر 2026 میں فرانس میں منعقد ہونے والے ’’ویتنام ڈیز‘‘ پروگرام کو فوری ترجیح قرار دیا گیا۔
صدر تو لام نے ویتنامی شہریوں کے لیے ویزا طریقہ کار آسان بنانے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ سیاحت اور عوامی روابط کو فروغ دیا جاسکے۔
فرانس نے میوزیم آف دی کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کی ترقی میں تعاون کی آمادگی ظاہر کی۔ صدر میکرون نے ویتنام کی ثقافتی صنعتوں کے لیے فرانس کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے صدر ہو چی منہ سے متعلق مزید تاریخی و آرکائیوی مواد ویتنام کو فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
فرانس صحت، تعلیم اور تربیت کے شعبوں میں بھی ویتنام کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
صدر تو لام نے غیر قانونی ثقافتی املاک کی اسمگلنگ کے خلاف دوطرفہ کوششوں کے تحت ڈونگ سون کانسی کا ڈھول ویتنام کو واپس کرنے پر فرانس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے میوزیم آف دی کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کے لیے نوادرات عطیہ کرنے پر بھی فرانس کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے ویتنام میں فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں اور اکتوبر 2026 میں پیرس میں ویتنامی ثقافتی تقریبات کے انعقاد میں فرانس کے تعاون کا خیرمقدم کیا۔
ویتنامی رہنما نے فرانس سے ویتنام کے ثقافتی ورثے اور تاریخی عمارات کی تحقیق، بحالی، تحفظ اور فروغ میں مزید تعاون کی درخواست کی، جس میں ہنوئی کا لانگ بیان پل اور قدیم فرانسیسی طرز کی رہائش گاہیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں فرانسیسی ماہرین تعمیرات کی شرکت کی بھی تجویز دی۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون
ویتنام اور فرانس نے موجودہ تعلیمی و تربیتی معاہدوں پر زیادہ مؤثر عمل درآمد پر اتفاق کیا، بالخصوص ویتنام میں فرانسیسی زبان کی تعلیم سے متعلق معاہدوں پر توجہ دی گئی۔
صدر تو لام نے سیمی کنڈکٹرز، نئی توانائی اور ریلوے سمیت اسٹریٹجک شعبوں میں اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل کی تیاری کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
صحت کے شعبے میں انہوں نے ویتنام میں پاسچر انسٹی ٹیوٹس کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے جدید طبی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں ویتنام کو جنوب مشرقی ایشیا کا ایک نمایاں مرکز بنانے کے لیے تعاون مزید مضبوط بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے ویتنامی میڈیکل طلبہ کے لیے وظائف کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
صدر تو لام نے فرانس سے ویتنامی برادری کے انضمام اور ترقی کے لیے تعاون جاری رکھنے اور ویتنامی پیشہ ور افراد، دانشوروں اور سائنس دانوں کی مہارت سے دونوں ممالک کے مفاد میں فائدہ اٹھانے کے لیے مؤثر طریقہ کار قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
علاقائی اور عالمی امور پر رابطہ
دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور آسیان۔یورپی یونین فریم ورک کے تحت رابطے اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
صدر میکرون نے حالیہ شنگریلا ڈائیلاگ میں صدر تو لام کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور کثیرالجہتی نظام کے فروغ کی اہمیت سے متعلق پیش کردہ مؤقف کا خیرمقدم کیا۔
بحری امور کے حوالے سے ویتنام اور فرانس نے بحیرہ مشرق، جسے بین الاقوامی طور پر بحیرہ جنوبی چین کہا جاتا ہے، سمیت دیگر علاقوں میں امن، استحکام، سلامتی، تحفظ، جہاز رانی اور فضائی پرواز کی آزادی، بلا رکاوٹ تجارت اور بے ضرر گزرگاہ کے حق کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) سمیت بین الاقوامی قانون کے مطابق پرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
دورے کے دوران صدر تو لام اور صدر ایمانوئل میکرون نے ویتنام اور فرانس کی وزارتوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان سلامتی، صحت، خلائی ٹیکنالوجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں متعدد اہم تعاون کی دستاویزات پر دستخط اور ان کے تبادلے کا مشاہدہ بھی کیا۔